تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 331
ننگا کیاہوا۔تھکایا ہوا۔تفسیر۔اس آیت میں بتایا ہے کہ خرچ کے متعلق اس اصل کو مدنظر رکھو کہ نہ توہاتھ گردن سے بندھا رہے۔یعنی ضرورت کے وقت بھی خرچ کرنے سے دریغ ہو اورنہ ہاتھ ہروقت مال لٹانے کےلئے دراز رہے بلکہ چاہیے کہ تم ضرورت کے مطابق خرچ کروتابے ضرورت خرچ تم کو اس وقت کی نیکی سے محروم نہ کردے جبکہ خرچ کرنے کی کوئی صحیح ضرورت پیداہوگئی ہو۔بے ضرورت خرچ کر نے کے نقصان بے ضرورت خرچ کرنے کے دونقصان بتائے ہیں ایک تویہ کہ جوشخص بے ضرورت خرچ کرتاہے ضرورت کے وقت جبکہ اس کے دوسرے ساتھی خرچ کررہے ہوتے ہیں۔یہ منہ دیکھتا رہ جاتا ہے اورقوم اسے ملامت کرتی ہے کہ آج ملک یاقوم کوضرورت تھی اورآج تم خاموش بیٹھے ہو اوردوسرانقصان یہ کہ اس طرح انسان محسوریعنی ننگاہو جاتا ہے یعنی جب ضرورت کے وقت یہ کام نہیں آسکتا توقوم پر اس کاعیب ظاہرہوجاتا ہے اوروہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بیوقوف ہے اپنے مال کی حفاظت نہیں کرسکااوریہ بھی کہ یہ دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔حَسَرَ الْبَیْتَ کے معنے گھر میںجھاڑو دے کراسے صا ف کردیا کے بھی ہیں۔پس محسور کے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ تواس حالت میں ہو جائے کہ گویا کہ تیرے گھر میں جھاڑ و مل گیا۔اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ تیرارب یقیناً جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو وسیع کردیتا ہے اور(جس کے لئے چاہتا ہے )تنگ کرتا ہے وہ یقیناً بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًاؒ۰۰۳۱ اپنے بندوں (کے حالات )کوجاننے والا (اور)دیکھنے والا ہے۔تفسیر۔اس میں یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ کسی کو فراخی دیتا ہے اور کسی کے رزق میں تنگی کرتا ہے تایہ دیکھے کہ جومالدارہیں وہ غرباء کی کس طرح مددکرتے ہیں۔پس اگرتم دنیاکے اموال کی اس نیت سے حفاظت کرو کہ ان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے بندوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرسکو تویہ ایک بہت بڑی نیکی ہو گی۔