تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 330

کرسکو۔توا س بات کی ضرور نیت کرلو کہ جب اللہ تعالیٰ دے گاتوضرور دوں گا۔اورساتھ ہی تم ان کویہ بات نرمی سے سمجھا دوکہ توفیق ملنے پر تمہاری ضرورمدد کروں گا۔(۲)دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگراللہ تعالیٰ کے فضل کی امید میں یعنی یہ خیال کرتے ہوئے کہ میرادینا ان کی دینی یااخلاقی حالت بگاڑ دے گاغرباء کی مددسے اعراض کرے توتُوان کو نرمی سے سمجھا دے گویا اعراض ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ ہوناچاہیے نہ کہ بخل کی وجہ سے۔مثلاً کوئی ہٹاکٹاآد می سوال کرے اورجس سے سوال کیا جائے وہ اس نیت سے اس کے سوال کو پورانہ کرے کہ قوم میں سوال کی عادت نہ پیداہوجائے تویہ جائز ہے۔مگر اس انکار کاباعث بخل اورکنجوسی نہ ہو۔سائل سے حسن سلوک کی تاکید اسی طرح مثلاً سائل مسر ف ہویا نشہ شراب افیون کی بد عادت میں مبتلاہواس کی مالی مدد سے اگریہ اس وجہ سے باز رہتا ہے کہ میں نے اس کی امداد کی تو اس کی صحت خراب ہوگی ملک میں بدی ترقی کرے گی اورنہ دینے سے اس کی نشہ کی عادت چھوٹے گی اورملک کو بھی فائدہ پہنچے گاتویہ شخص گناہ گار نہ ہوگا۔بلکہ نیکی کامرتکب۔حدیث میں آتاہے بعض ایسے سائلوںکے آنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے یا انہیں سمجھادیتے تھے۔(نسائی کتاب الزکوٰۃ باب مسئلۃ القوی المکتسب) وَ لَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ اورتونہ (توبخل سے )اپنے ہاتھ کو باند ھ کراپنی گردن میں ڈال لے۔اورنہ(اسراف میں پڑ کر)اسے بالکل کھول الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۰۰۳۰ دے۔ورنہ (یاتو)توملامت کا نشانہ بن کر (اوریاپھر )تھک کربیٹھ جائے گا۔حلّ لُغَات۔مَغْلُوْلَۃً۔مَغْلُوْلَۃً غَلَّ سے اسم مفعول مؤنث کاصیغہ ہے۔اورغَلَّ فُلَانًا کے معنے ہیں : وَضَعَ فِی یَدِہٖ اَوْعُنُقِہٖ الْغُلَّ۔اس کے ہاتھوں یاگردن میں طوق ڈالا (اقرب)پس لَاتَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً کے معنے ہوں گےتو اپنے ہاتھو ں کو باندھ کر اپنی گردن میں نہ ڈال لے۔مَحْسُوْرًا۔مَحْسُوْرًا حَسَرَ سے اسم مفعول ہے اورحَسَرَالشَّیْءَ کے معنے ہیں۔کَشَفَہُ۔کسی چیز سے پردہ کو ہٹایا۔حَسَرَالْغُصْنَ :قَشَرَہُ۔ٹہنی کے چھلکے کو اتارا۔حَسَرَ الْبَعِیْرَ: سَاقَہُ حَتّٰی اَعْیَاہُ۔اونٹ کو اتنا چلا یاکہ وہ تھک گیا۔حَسَرَ الْبَیْتَ کَـنَسَہُ۔گھر میں جھاڑودیا۔(اقرب) مَحْسُوْرٌ کے معنے ہوں گے۔جھاڑو دیا ہوا۔