تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 285
کرنے کے لئے آپ کے گھر کامحاصرہ کرلیاتھا۔پس اس سفر میں آپ کی مرضی کادخل نہ تھا۔بلکہ خدا تعالیٰ کی مشیت نے آپ کو مجبورکیا۔پھر جس طرح رؤیا میں جبریل بیت المقدس کے سفر میں آپ کے ساتھ تھے۔ہجرت میں ابوبکرؓ آپ کے ساتھ تھے۔جوگویا اسی طرح آپ کے تابع تھے جس طرح جبریل خدا تعالیٰ کے تابع کام کرتا ہے۔اور جبریل کے معنے خدا تعالیٰ کے پہلوان کے ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر بھی اللہ تعالیٰ کے خاص بند ے تھے اوردین کے لئے ایک نڈ رپہلوان کی حیثیت رکھتے تھے۔مدینہ کے پہلے نام یثرب کی وجہ تسمیہ مدینہ کو جو برکت دی گئی اس کی ایک ظاہری صورت بھی تھی۔اس کی حقیقت حضرت عائشہؓ کی ایک روایت سے ظاہر ہوتی ہے۔آپ فرماتی ہیں کہ مدینہ میں آپ کی آمد سے پہلے بخار کی وباء سخت پھیلاکرتی تھی جب آپ وہاں تشریف لے گئے توآپ کی دعا کے طفیل سے وہ وباء دور ہوگئی۔اسی وباء کی وجہ سے پہلے مدینہ کانام یثرب تھا۔کیونکہ یثرب کے معنے رونا پیٹنا ہے۔مگرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاکی وجہ سے وہ وباء دورہوگئی اورآئندہ یثرب کی بجائے آپ نے اس کانام مدینہ رکھا۔(بخاری کتاب فضائل المدینۃ باب المدینۃ تنفی الخبث)۔اسلامی حکومت کی ترقی کا راز مدینہ کو مرکز قرار دینا تھا پھر کشف میں جو یہ دکھایاگیاتھا کہ مسجد اقصیٰ میں جاکر آپ نے تما م انبیاء کو نماز پڑھائی۔یہ خبر بھی مدینہ میں جاکر پوری ہوئی اوراس مقام سے ہی اسلام کی اشاعت ساری دنیا میں ہوئی۔بلکہ اس امر کو دیکھ کرحیرت آتی ہے کہ جب مدینہ سے اسلامی دارالخلافہ کو بدل دیا گیا ،اسی وقت سے اسلام کی ترقی رک گئی۔تیس سال کے عرصہ میں جس میں مدینہ اسلامی دارالخلافہ تھا اس قدر اسلام کوترقی ہوئی اوراس قدر اس کی اشاعت ہوئی کہ اس کے بعد تیرہ سوسال میں اس قدرنہیں ہوئی۔اگرکہو کہ یہ برکات توخود رسول کریم صلعم نے دی تھیں۔تواس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کی برکات کوئی انسان نہیں دے سکتا انسان میں کہاں طاقت ہے کہ ایسی پیشگوئی کرے اوراس کو پوراکردکھائے۔آپ نے جودعاکی وہ اللہ تعالیٰ کی اس پیشگوئی کی تائید میں تھی۔اسراء میں مسلمانوں کے ملک شام پر قبضہ کرنے کی پیشگوئی (۲)دوسری صورت میں نے یہ بتائی تھی کہ مسجد اقصیٰ سے مراد بنی اسرائیل والی مسجد اقصیٰ بھی ہے اس صورت میں یہ تعبیر ہوگی کہ آپ کو اس ملک پر قبضہ دیا جائے گا۔چنانچہ یہ تعبیر بھی پوری ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے خلیفہ کے وقت میں اس جگہ پر مسلمانوں کاقبضہ ہوگیا اورتیرہ صدیوں تک قبضہ رہا۔اب عارضی طورپر یہ علاقہ عیسائیوں کے قبضہ میں چلا گیاہے۔