تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 284

اردگرد کے علاقہ یعنی مدینہ کو بھی برکت دی گئی۔اس کے مندر جہ ذیل ثبوت ہیں۔آنحضرتؐ کی مدینہ میں ترقی کے لئے دعا (۱)بخاری میں روایت ہے کہ عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْ لُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِیْنَۃِ ضِعْفَیْ مَاجَعَلْتَ بِمَکَّۃَ مِنَ الْبَرَکَـۃِ(بخاری کتاب فضائل المدینۃ باب المدینۃ تنفع الخبث )یعنی حضرت انس فرماتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی کہ اے اللہ مکہ میں جو تو نے برکت رکھی ہے اس سے بڑ ھ کر مدینہ میں برکت رکھ دے۔(۲) اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْاَشَدَّ اَللّٰھُمَّ بَارِکَ لَنَا فِی صَاعِنَا وَفِیْ مُدِّنَا۔(بخاری کتاب فضائل المدینۃ باب المدینۃ تنفع الخبث) یعنی حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی کہ الٰہی تومدینہ بھی ہمیں ایسا ہی پیارابنادے جس طرح ہمیں مکہ پیاراہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔اے اللہ اس کے صاع اورمُدّمیں برکت ڈال دے۔یعنی اہل مدینہ کے گذارے کے لئے ان کی زراعت اورتجارت میں برکت دے۔(۳)عَنْ زَیْدِ بْنِ عَاصِمٍ اَنَّ اِبْرَاھِیْمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَدَعَالِاَھْلِھَاوَاِنِّیْ حَرَّمْتُ الْمَدِیْنَۃَ کَمَاحَرَّمَ اِبْرَاھِیْمُ مَکَّۃَ وَاِنِّیْ دَعَوْتُ فِیْ صَاعِھَا وَمُدِّھَا بِمِثْلَیْ مَادَعَابِہِ اِبْراھِیْمُ لِأَھْلِ مَکَّۃَ( مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ)۔یعنی زید بن عاصم کہتے ہیں کہ رسول کریم صلعم نے فرمایا کہ ابراہیمؑ نے مکہ کو محفوظ مقام قرار دیاتھا اوراس کے باشندوں کے لئے دعاکی تھی۔اورمیں نے مدینہ کو محفوظ مقام قرار دیا ہے اورمیں نے دعاکی ہے کہ مدینہ کے صاع اورمُدمیں اس سے دگنی برکت رکھ دے جتنی کہ ابراہیم نے مکہ کے لئے طلب کی تھی۔(اس سے معلوم ہوتاہے کہ مدینہ کی فضیلت کے لئے جو دعاہے وہ دنیوی ترقی کے لئے ہے ورنہ آسمانی برکت کے لحاظ سے مکہ ہی سب دنیا کے شہروں سے افضل ہے ) ان روایات سے ظا ہر ہے کہ مسجد اقصیٰ جس کے ارد گرد کاعلاقہ بھی بابرکت کیا گیا۔اس سے مراد رؤیا میں درحقیقت مسجد نبوی تھی۔اورہر عقلمند سوچ سکتاہے کہ مدینہ کوجو برکت ملی ہے کیا اس کا دسواں حصہ بھی یروشلم کو نصیب ہوئی ہے؟ اسریٰ کے لفظ میں بھی مجبوری سے سفر کا ثبوت ملتا ہے یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ سے ظاہر ہوتاہے کہ چلانے والا کوئی دوسرا تھا۔اوراس میں چلنے والے کااپنا اختیا ر نہ تھا۔ہجرت کاواقعہ بھی اسی طرح ہواکہ آپ رات ہی کونکلے۔اوریہ نکلنا اپنی مرضی سے نہ تھا بلکہ اس وقت مجبور ہوکر آپ نکلے جبکہ کفار نے آپ کے قتل