تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 276

أُمَّتُكَ، وَلَوْ شَرِبْتَ الْخَمْرَ لَغَوَيْتَ وَغَوَتْ أُمَّتُكَ۔ثُمَّ بُعِثَ لَهُ آدَمُ فَمَنْ دُوْنَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَّهُمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ جِبْرَائِيْلُ أَمَّا الْعَجُوْزُ الَّتِي رَأَيْتَ عَلٰى جَانِبِ الطَّرِيْقِ، فَلَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا بِقَدْرِ مَا بَقِيَ مِنْ عُمُرِ تِلْكَ الْعَجُوْزِ، وَأَمَّا الَّذِي أَرَادَ أَنْ تَمِيلَ إِلَيْهِ، فَذَاكَ عَدُوُّ اللهِ إِبْلِيْسُ، أَرَادَ أَنْ تَمِيْلَ إِلَيْهِ وَأَمَّا الَّذِيْنَ سَلَّمُوْا عَلَيْكَ، فَذَاكَ إِبْرَاهِيْمُ وَمُوْسَى وَعِيْسَى۔(ابن جریر زیر آیت ھذا) ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس روایت کو نقل کرکے لکھا ہے کہ وَ ھٰکَذَارَوَاہ الْحَافِظُ الْبَیْہَقِیُّ فِی دَلَائِلِ النُّبُوَّۃِ مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ وَھْبٍ وَفِیْ بَعْضِ اَلْفَاظِہٖ نَکَارَۃٌ وَ غَرَابَۃٌ۔طَرِیْقُ اُخْرٰی عَنْ اَنَسٍ ابْنِ مَالِکٍ وَفِیْھَا غَرَابَۃٌوَنَکَارَۃٌ جِدًّاوَھِی فِی سُنَنِ النَّسَائِی الْمُجْتَنیٰ وَلَمْ اَرَھَافِی الْکَبِیْرِ (ابن کثیرزیر آیت ھذا) یعنی ابن جریر انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا۔جب جبرائیل ؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس براق لائے تو اس نے اپنی دم ہلائی یعنی کچھ انکار کیا۔تواسے جبرائیلؑ نے کہا آرام سے کھڑارہ۔اے براق خدا کی قسم تجھ پرا یساسوار کبھی نہیں بیٹھا۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھ کرروانہ ہوئے۔توراستے میں کیادیکھتے ہیں کہ ایک بڑھیا راستہ کی ایک جانب کھڑی ہے۔توآپ نے کہا اے جبرائیل یہ کون ہے۔توجبرائیل نے کہا۔چلئے چلئے اے محمد ؐ!(یعنی موسیٰ کی طر ح سوال کرنے سے منع کیا )راوی کہتاہے پھر آپ چلے جتنا کہ اللہ تعالیٰ کامنشاء تھا۔توکیا دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص راستہ کی ایک جانب سے آپ کو بلارہا ہے اورکہتاہے کہ ادہر آئیے اے محمدؐ! اس پر جبرائیل نے پھر آپ کو بولنے سے منع کیا اورکہا کہ اے محمد ؐ چلئے چلئے اور کچھ جواب نہ دیجئے۔پھر آپ آگے چلے جتنا کہ خدا کی مرضی تھی۔راوی کہتاہے کہ پھر آپ کو اللہ تعالیٰ کی مخلو ق میں سے کچھ لوگ ملے۔توانہوں نے کہا اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَااَوَّلُ۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اٰخِرُ۔السَّلَامُ عَلَیْکَ یَاحَاشرُ۔اس پرجبرائیل نے کہا۔اے محمد ؐ ان کو سلام کا جواب دیجئے۔توآپ نے ان کو سلام کا جواب دیا۔پھر آپ کو ایسی ہی ایک اَور جماعت ملی۔اس نے بھی پہلی جماعت کے الفاظ میں آپ کوسلام کہا۔(پھرآپ آگے چلے)یہاں تک کہ آپ بیت المقدس تک پہنچے۔توآپ کے سامنے حضرت جبرائیل نے تین پیالے پیش کئے ایک پانی کا۔ایک دودھ کا اورایک شراب کا۔اسراء میں دودھ سے مراد فطرت آپ نے دودھ لے کر پی لیا۔توآپ کو جبرائیل نے کہا آپ نے فطرت صحیحہ کوپالیا۔اگرآپ پانی پی لیتے توآپ بھی غرق ہوتے اورآ پ کی امت بھی غرق ہوتی۔اوراگرآپ شراب پی لیتے توآپ بھی گمراہ ہوتے اورآپ کی امت بھی گمراہ ہوجاتی۔پھر آپ کےسامنے آدم اوردیگر انبیاء لائے گئے اوراس