تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 275

نے انہی انبیاء کو دیکھا اورپہچانانہیں۔اگرایک ہی وقت میں یہ دونوں واقعات ہوئے تھے تواول توآسمان پر یہ انبیاء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کس طرح پہنچے۔اور دوسرے ان کو تھوڑی دیر پہلے دیکھنے کے بعد آپ نے کیوںنہ پہچانا۔دو مختلف وقتوں کی رؤیتوں میں تویہ امر سمجھ میں آسکتاہے کہ ایک نظارہ دوسرے سے مختلف ہو۔لیکن ایک ہی وقت میں دونوں نظاروں کی صورت میں یہ بات بعید از قیاس ہے۔پس یہ اندرونی شہادت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دوالگ الگ واقعات کے بارہ میں راویوں کے ذہن میں خلط ہوگیا ہے۔میرے اس خیال کی تائید بعض پرانے علماء کی آراء سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ خصائص الکبریٰ جلد اول کے ص ۱۸۰پرلکھا ہے کہ ابونصر قشیری ابن العربی اوراَوربہت سے علماء کاخیال ہے کہ اسرا ء دودفعہ ہواہے۔اس کی وجہ سے احادیث میں اختلاف ہوگیا۔اس وقت تک میں یہ ثابت کرچکاہوں کہ تاریخی شہادت سے جس سے دونوں واقعات مختلف زمانوںکے ثابت ہوتے ہیں۔اورقرآ ن کریم کی شہادت سے کہ اس میں معراج کاواقعہ الگ اور خالی بیت المقدس تک جانے کاواقعہ الگ بیان کیاگیاہے۔اوراحادیث کی اندرونی شہادتو ں سے یہ امر ثابت ہے کہ یہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں۔اورنام اورتفاصیل کے اشتراک کی وجہ سے دھوکاکھاکر بعض راویان حدیث نے ان کو ایک واقعہ سمجھ لیا ہے اب میں اس اسراء کاکسی قدر تفصیل سے ذکرکرتاہوں جس کا اس سورۃ میں ذکر کیا گیا ہے۔واقعہ اسراء کی تفصیل میرے نزدیک اسرا ء بیت المقدس کاواقعہ اپنی تفاصیل کے ساتھ حدیث انس ؓ میں جو ابن جریر نے اپنی تفسیر میں نقل کی ہے نہایت صحیح طور پر بیان ہواہے اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔عَنْ اَنَسٍ ابْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا جَاءَ جِبْرَائِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْبُرَاقِ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنَّهَا ضَرَبَتْ بِذَنَبِهَا، فَقَالَ لَهَا جِبْرَائِيْلُ مَهْ يَا بُرَاقُ، فَوَاللهِ إِنْ رَكِبَكَ مِثْلُهُ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ بِعَجُوزٍ نَاءَ عَنِ الطَّرِيْقِ أَيْ عَلٰى جَنْبِ الطَّرِيْقِ فَقَالَ:مَا هٰذِهِ يَا جَبْرَائِيلُ؟ قَالَ سِرْ يَا مُحَمَّدُ، فَسَارَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسِيْرَ، فَإِذَا شَيْءٌ يَدْعُوْهُ مُتَنَحِّيًا عَنِ الطَّرِيْقِ يَقُوْلُ هَلُمَّ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ جِبْرَائِيْلُ سِرْ يَا مُحَمَّدُ، فَسَارَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسِيْرَ، قَالَ ثُمَّ لَقِيَهُ خَلْقٌ مِنَ الْخَلَائِقِ، فَقَالَ أَحَدُهُمُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَوَّلُ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا آخِرُ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَاشِرُ، فَقَالَ لَهُ جِبْرَائِيْلُ ارْدُدِ السَّلَامَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ فَرَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّ لَقِيَهُ الثَّانِيْ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَقَالَةِ الْأَوَّلَيْنَ حَتَّى انْتَهٰى إِلٰى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَعُرِضَ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَاللَّبَنُ وَالْخَمْرُ فَتَنَاوَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرَائِيْلُ أَصَبْتَ يَا مُحَمَّدُ الْفِطْرَةَ، وَلَوْ شَرِبْتَ الْمَاءَ لَغَرِقْتَ وَغَرِقَتْ