تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 229
لوگوںکو خیا ل ہے کہ ہرشے حرام ہے سوائے اس کے جسے خدا تعالیٰ نے جائز کردیاہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک ہے اورمالک کی اجازت کے بغیر کسی چیز کااستعمال جائز نہیں ہوتا۔لیکن یہ درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماچکا ہے کہ ہم نے ہرچیز انسان کے لئے پیداکی ہے اوراس کے لئے مسخر کردی ہے۔پس اس عام حکم سے ہرچیز انسان کے لئے جائز ہوگئی سوائے اس کے جس سے نصّاً یا اشارۃً روک دیاگیاہو۔لحم خنزیر میں چربی کے شامل ہونے کے متعلق فقہاء کا اختلاف اس آیت میں جو لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ فرمایا اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے کہ لحم میں چربی بھی شامل ہے یانہیں (القرطبی زیر آیت ھذا)۔جہاں تک لغت کاسوال ہے شَحْمٌ یعنی چربی کو لَحْمٌ سے الگ قسم کا خیال کیا جاتا ہے۔لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ لحم کے نام میں شحم بھی شامل ہے۔گومفسرین کی دلیل ذوقی ہے اورلغت والوں کی بات اس مسئلہ میں زیادہ قابل اعتبار ہے۔مگر اس کے باوجود میرے نزدیک سؤر کی شحم یعنی چربی جائز نہیں۔اوراس کی دلیل میرے پاس یہ ہے کہ نبی کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ مردہ جانور کی چربی حرام ہے (بخاری کتاب البیوع باب بیع المیتة)۔اورسؤر کی حرمت اورمردہ کی حرمت ایک ہی آیت میں اورایک ہی الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔پس دونوں کاحکم ایک قسم کا سمجھاجائے گا۔لیکن سؤر کی جلد کااستعمال جائز ہوگا کیونکہ وہ کھائی نہیں جاتی۔احادیث میں ایک واقعہ بیان کیاگیا ہے کہ حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی۔چند آدمی اس کو اٹھا کر باہر لئے جارہے تھے۔نبی کریم صلعم نے ان سے فرمایا کہ تم اس کا چمڑا کیوں نہیں اتار لیتے ؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ یہ تومیتہ ہے۔آپ نے فرمایا کیا تم نے اسے کھاناہے (مسند احمد بن حنبل )۔پس معلوم ہواکہ جس کاگوشت حرام ہو اس کے چمڑے کے استعمال میں کو ئی حرج نہیں۔ہاںسؤر کے بالوں کے بنے ہو ئے بُرشوں کومکروہ کہا جائے گا۔کیونکہ ان کو منہ میں ڈالاجاتاہے جوکھانے کادروازہ ہے۔کیا بیان شدہ صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں اس آیت کے متعلق ایک بہت بڑاسوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اس میں چار چیزوں کی حرمت بیان فرمائی گئی ہے۔کیایہی چا ر چیز یں حرام ہیں اوران کے سوااورکوئی چیز حرام نہیں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں پر جوحصر پایا جاتاہے یہ حصر اضافی ہے۔یعنی کفار کے حرام کو مدنظر رکھ کر اضافی طور پر ان چیز وں کو حرام کیاگیا ہے (تفسیر مظہری زیر آیت ھذا)۔چونکہ وہ سائبہ وغیرہ کو حرام کہا کرتے تھے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ حرام نہیں حرام تو یہ اشیا ء ہیں جو ہم گنوارہے ہیں۔اس صورت بیان میں حصر تعداد کا نہیں ہواکرتا بلکہ اقسام کاہواکرتا ہے۔پس آیت کا مفہو م یہ ہوگا کہ اس قسم کی چیزیں حرام نہیں جو تم کہتے ہو۔بلکہ اس قسم کی چیزیں