تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 218

فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۰۷ کا(بہت)بڑاغضب (نازل)ہوگا اور ان کے لئے بڑا(بھاری)عذاب (مقدر)ہے۔حلّ لُغَات۔اُ کْرِہَ اُکْرِہَ اَکْرَہَ سے مجہول کاصیغہ ہے۔اوراَکْرَھَہُ عَلَی الْاَمْرِ کے معنے ہیں۔حَمَلَہٗ عَلَیْہِ قَھْرًا۔کسی کو کسی کام پر زبردستی آمادہ کیا۔اَکْرَ ہَ فُلَانًا :حَمَلَہٗ عَلیٰ اَمْرٍ یَکْرَھُہٗ۔اس کوکسی ایسے کام پر آمادہ کیا جس کو وہ ناپسند کرتاتھا۔وَقِیْلَ عَلَی أَمْرٍ لَا یُرِیْدُہٗ طَبْعًااَوْ شَرْعًا۔اوربعض کہتے ہیں۔اَکْرَہَ فُلَانًاکے معنے ہیں کہ اس نے اسے ایسے کام پر آمادہ کیا جس کو وہ طبعاً یامذہباً ناپسند کرتاتھا۔ا س سے اسم فاعل مُکْرِہٌ اوراسم مفعول مُکْرَہٌ آتاہے۔(اقرب) پہلے حصہ میں واحد کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔لیکن ان پراللہ کاعذاب نازل ہوگا سے جمع کے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی میں مَنْ جمع کے لئے بھی آتا ہے اورمفرد کے لئے بھی۔اور چونکہ یہ لفظ مفرد ہے۔بعض دفعہ ا س کے بعد مفرد کے صیغے استعمال ہوتے ہیں مگر مراد جمع ہوتی ہے۔ایسا ہی یہاں ہواہے۔اس لئے معنوں کے مطابق اردو میں مفرد کی جگہ جمع کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں۔ورنہ ترجمہ غلط ہوجاتا۔(مفردات) قَلْبٌ۔قَلْبٌ اَلْفُؤَادُ۔دل۔وقَدْیُطْلَقُ عَلَی الْعَقْلِ۔اور کبھی قلب کالفظ عقل کے لئے استعمال ہوتا ہے اس کی جمع قُلُوْبٌ آتی ہے۔(اقرب) مُطْمَئِنٌّ۔مُطْـمَئِنُّ اِطْـمَأَنَّ سے اسم فاعل کاصیغہ ہے۔اوراِطْـمَئَنَّ کے معنوںکے لئے دیکھو رعدآیت نمبر ۲۹۔تَطْمَئِنَّ اِطْمَأَنَّ سے مضارع مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور اِطْمَئَنَّ اِلٰی کَذَا کے معنے ہیں سَکَنَ وَآ مَنَ لَہ۔سکون پکڑا اور تسلی پائی۔(اقرب) اَلْغَضَبُ۔اَلْغَضَبُ ثَورَانُ دَمِ الْقَلْبِ اِرَادَۃَ الْاِنْتِقَامِ۔سزادینے کے غرض سے دل کے خو ن کے جوش مارنے کا نام غضب ہے۔وَاِذَا وُصِفَ اللہُ تَعَالیٰ بِہٖ فَالْمُرَادُ بِہِ الْاِنْتِقَامُ دُوْنَ غَیْرِہٖ۔اورجب غضب کالفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتاہے تواس کے معنے صرف سزادینے کے ہوتے ہیں۔جوش وغیرہ کے معنے اس میں نہیں پائے جاتے۔(مفردات) تفسیر۔اس ضمنی اعتراض کا جواب دے کر کہ جب انہیں آئندہ زمانہ کی ترقیات کی پیشگوئیوں کی طرف