تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 217

تفسیر۔یعنی چونکہ یہ لوگ ایسی زبردست آیتوں اورنشانوں کے ہوتے ہوئے بھی ایسے بیہودہ اعتراض کرتے ہیں۔اورایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم پربجائے ایمان لانے کے اس پر ہنسی کرتے ہیں۔اس لئے یہ لوگ ضرورسزاپائیں گے۔اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ جھوٹ وہی لوگ باندھا کرتے ہیں جو اللہ(تعالیٰ)کےنشانوں پرایمان نہیں رکھتے اوریہی لوگ جھوٹ بولنے میں اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ۰۰۱۰۶ کامل ہوتے ہیں۔تفسیر۔محمد رسول اللہ کی مسلمہ سچائی اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر افتراء نہیں کیا اس جگہ رسول کریم صلعم کی زندگی کوبطور نمونہ کے پیش کیاہے۔اورکہا ہے کہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ تو وہی شخص بناسکتاہے جسے اللہ تعالیٰ کی طاقت پرایمان نہ ہو۔مگر محمد رسول اللہ کو دیکھو کہ یہ تواللہ تعالیٰ کی عظمت دنیا میں قائم کررہے ہیں اورنہ صرف خود بلکہ لوگوں کوبھی یہی تعلیم دے رہے ہیں کہ اس کی تعظیم کرو۔اس لئے ایسے شخص پراعتراض کرنا کسی سیاہ دل کاہی کام ہے۔دوسرے یہ کام ایک عادی جھوٹے شخص کے سوادوسراشخص نہیں کرسکتا اورمحمد رسول اللہ کی سچائی کے گواہ توتم بھی ہو۔مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ جولوگ (بھی)اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ(تعالیٰ)کاانکار کریں مگر وہ نہیں جنہیں (کفر پر)مجبورکیاگیا ہو اوران مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا کا دل ایمان پر مطمئن ہو بلکہ وہ جنہوں نے (اپنا )سینہ کفر کے لئے کھول دیاہوان پر اللہ (تعالیٰ )