تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 194
تاخیر کردی جاتی ہے۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قو م کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انہوں نے متواترحضرت موسیٰ ؑکی نافرمانی کی تووہ ارضِ موعودہ جس میں داخل کرنے کے لئے حضرت موسیٰ ؑ انہیں مصر سے نکال کر لائے تھے چالیس سال تک کے لئے اس کی فتح روک دی گئی اس کے موعود ہونے کا ذکر ان الفاظ میں کیاگیاہے۔یٰقَوْمِ ادْخُلُوْاالْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ(المائدۃ :۲۲)اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہوجائو جوخدا تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہوئی ہے۔اس کے بعد یہود کی نافرمانی کا ذکرکرکے فرماتا ہےقَالَ فَاِنَّھَامُحَرَّمَۃٌ عَلَیْھِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَلَاتَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ(المائدۃ:۲۷)یعنی جب انہوںنے نافرمانی کی تواللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ اب یہ ملک چالیس سال تک کے لئے بنی اسرائیل پرحرام کردیاگیاہے۔پس تونافرمان قوم کی حالت پرافسوس نہ کر۔اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ وعدہ کو ٹلادیاگیاہے۔لیکن اسے منسوخ نہیں کیاگیا۔کیونکہ وعدہ خدا تعالیٰ منسوخ نہیں کیاکرتا۔مذکورہ بالاقانون کے مطابق انذارکی پیشگوئی جب کبھی ٹلتی ہے توکفار شور مچادیتے ہیںکہ دیکھو یہ جھوٹاہے۔اگر سچا ہوتا تو کیوں اس کی بات پوری نہ ہوتی۔ایسے ہی اعتراضات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیاکرتے تھے۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آیات توکسی غرض اورمقصد کے لئے نازل ہوتی ہیں۔جب ہم دیکھیں کہ ایک شخص نے اپنی اصلاح کرلی ہے توہم اس کے متعلق اپنے حکم کوبھی بدل دیتے ہیں اوراس کی سزامنسوخ کردیتے ہیں اس کی جگہ اس کے لئے اپنی رحمت کا نشا ن دکھاتے ہیں۔کیونکہ ہماری غرض سزادینا نہیں بلکہ اصلاح کرنا ہوتاہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسے کئی مواقع پیش آئے ہیں۔مثلاً یہی کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کفار مکہ کی نسبت فرماتا ہے لَایُؤْمِنُوْنَ(البقرۃ:۷)لیکن بعد میں ان میں سے بہت سے لوگ ایمان لے آئے۔یہ عذاب کی خبر تھی اس وجہ سے جن جن لوگوں نے خشیت اللہ پیداکرلی ان کاعذاب بدل دیاگیااوران کو ایمان عطاہوگیا۔جھوٹ کی تعریف بظاہر یہ مسئلہ بالکل صاف ہے لیکن ہمیشہ ہی لو گ اس بارے میں ٹھوکر کھاتے ہیں۔اوراس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ بات بدلنے کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔حالانکہ سزاکو بدلنا جھوٹ نہیں ہوتا۔وعدہ کو بدلنا جھوٹ