تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 163

ظرف مکان ہے جیسے کہتے ہیں صَعَدْتُ فَوْقَ الْجَبَلِکہ میں پہاڑ پر چڑھا۔اور کبھی کبھی ظرف زمان کے لئے بھی استعمال ہوتاہے چنانچہ کہتے ہیں لَبِثْنَافَوْقَ شَھْرٍ اَیْ زَمَانًا اَکْثَرَ مِنْ شَھْرٍ۔ہم ایک ما ہ سے زائد ٹھہرے۔یہ معر ب ہوتاہے۔لیکن جب اس کامضاف الیہ حذف ہو۔اورمعنیً وہ ذہن میں ہوتواس وقت یہ مبنی ہوتاہے۔اوراس کے آخر پر ضمّہ آتاہے۔چنانچہ کہتے ہیں عِنْدِیْ مِائَۃٌ فَمَافَوْقُ۔کہ میرے پاس سوسے اوپر چیزیں ہیں۔یہاں فوق کے بعد مضاف الیہ حذف ہے۔اوراگر مضاف الیہ بولاجائے تووہ معرب ہوتاہے۔اور کبھی کبھی فوق کالفظ بطور اسم کے استعمال ہوتاہے۔اوربعض اوقات زیادتی کے بیان کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔چنانچہ کہتے ہیں اَلْعَشْرَۃُ فَوْقَ التِّسْعَۃِ اَیْ تَزِیْدُعَلَیْھَا۔دس نوسے زیادہ ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں کہتے ہیں ھَذَافَوْقَ ذَاکَ اَیْ اَفْضَلُ مِنْہُ۔کہ یہ اُس سے افضل ہے۔(اقرب) تفسیر۔گمراہ کرنے والے کو قیامت کے دن زیادہ سزا ملے گی اس آیت میں پھر وہی فرق بتایا کہ کافر دو قسم کے ہیں ایک گمراہ اورایک گمراہ کرنے والے۔اوریہ بھی بتایا ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو دوسروں سے زیادہ سزاملے گی۔لطف یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ دنیا میں جاہلو ںسے کہتے ہیں کہ ہم تمہاری نجات کے ذمہ وار ہیں لیکن وہاں جن کی نجا ت کے ذمہ وار بنتے تھے ان سے بھی زیادہ انہیں سزاملے گی۔وَ يَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اور(اس دن کو بھی یاد کرو)جس دن ہم ہر ایک قوم کے اند ران کے خلاف خود انہی میں سے ایک گواہ کھڑاکریں گے اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا اور(اے رسول)تجھے ہم ان(سب)کے خلاف گواہ بناکر لائیں گے اورہم نے یہ کتا ب ہرایک بات کو کھول کر عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بیان کرنے کے لئے اور(تمام لوگوں کی)رہنمائی کے لئے اور(ان پر)رحمت کرنے اور کامل فرمانبرداری اختیار