تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 11

اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۰۰۳ بچائوکاذریعہ بنائو۔حل لغات۔الرُّوْحُ اَلرُّوْحُ کے لئے دیکھو حجرآیت نمبر۳۰۔الرُّوْحُ مَابِہِ حَیَاۃُ الْاَنْفُسِ۔وہ چیز جس کے ذریعہ نفوس زندہ رہتے ہیں۔یعنی جس کو زندگی کہتے ہیں۔الْوَحْیُ الہام۔جِبْرِیْلُ جبرائیل۔اَلنَّفْخُ پھونک۔اَمْرُالنُّبُوَّۃِ، امرنبوت۔وَحُکْمُ اللہِ وَاَمْرُہُ۔خدا تعالیٰ کا فیصلہ اوراس کاحکم۔تُطْلَقُ الْاَرْوَاحُ عَلٰی مَایُقَابِلُ الْاَجْسَادَ جسم کے مقابل چیز کوبھی روح کہتے ہیں۔(جو انسان میں جسم کے علاوہ موجود ہے )وَعِنْدَ اَصْحَابِ الْکِیْمِیَا عَلَی الْمِیَاہِ الْمُقَطَّرۃِ مِنَ الْاَدْوِیَۃِ۔کیمیا والوں کے نزدیک دوائیوںکے عرق کوبھی روح کہتے ہیں۔(لیکن یہ فن کی ناواقفی کی وجہ سے لکھا ہے کیمسٹری والے عرق کو روح نہیں کہتے۔بلکہ یاتو تیل والی ادویہ کاوہ حصہ جو عرق پر آجاتاہے اسے روح کہتے ہیں جیسے روح گلا ب یا پھر عرق کو باربار کشید کرکے اس کی تیز خوشبوکو عرق سے الگ کرلینے پر اسے روح کہتے ہیں جیسے روح کیوڑہ) (اقرب) جبرائیل کو جو صاحب اقرب الموارد نے روح لکھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں جبرائیل کو روح کہاگیاہے اس لئے انہوں نے روح کے معنے جبرائیل قراردے دیئے۔جبرائیل کو روح کے نام سے پکارے جانے کی وجہ حالانکہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ بعض دفعہ مسبب کانام سبب کو دے دیاجاتاہے اوراسی لحاظ سے جبرائیل کو روح کہا گیا ہے۔کیونکہ وہ روح یعنی کلام الٰہی کو لاتاہے۔غر ض روح کے معنے جبریل نہیں بلکہ استعارۃً وحی لانے والے فرشتے کو کہتے ہیں۔اصل میں روح وہ چیز ہے جس کے ذریعہ کسی کو حیا ت ممتاز ملے۔پس وہ روح جو حیوان کو باقی چیزوں سے ممتاز کررہی ہے۔اوروہ روح جس کے ساتھ انسان باقی حیوانوں سے ممتازہوتاہے ان دونوں پر لفظ روح کااطلاق ہوتاہے۔یاوہ روح جوانسان کو باخدابنادیتی ہے پس کلام الٰہی بھی ایک روح ہے جو انسان کو نئی زندگی بخشتاہے۔اَنْذِرُوْا۔اَنْذِرُوْااَنْذَرَسے امر کا جمع کا صیغہ ہے۔اَنْذَرَکے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۳۔اَنْذِرْ اَنْذَرَ کا صیغۂ امر ہے۔اس کی مصدر اِنْذَارٌ ہے اور الفاظ نَذْرٌ، نُذْرٌ، نُذُرٌ اور نَذِیرٌ بھی اس معنی میں آتے ہیں۔کہتے ہیں اَنْذَرَہٗ بِالْاَمْرِ۔أَعْلَمَہُ وَحَذَّرَہُ مِنْ عَوَاقِبِہِ قَبْلَ حُلُوْلِہٖ یعنی کسی امر کی حقیقت سے اسے آگاہ کیا۔اور اس امر کے نتائج کے ظاہر ہونے سے پہلے اسے ہوشیار کر دیا اور کہتے ہیں اَنْذَرَہٗ: خَوَّفَہٗ فِیْ اِبْلَاغِہٖ