تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 10

سُبْحٰنَهٗ کہہ کر اس حکم پرکامیاب طورپر عمل ہوجانے کی خبر دی۔کیونکہ ان الفاظ میں بتایاگیا ہے۔کہ ہم نے جوکہاتھا کہ خدا تعالیٰ کی پاکیزگی کو اب ظاہر کرو۔اب تجھے یہ بتاتے ہیں کہ تیری یہ کوشش ناکام نہ رہے گی۔بلکہ عنقریب تیرے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی سبوحیت یعنی اس کا سب اعتراضات سے پاک ہوناثابت ہوجائے گا۔گویا اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ کہہ کر خدا تعالیٰ پر جو اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ کے وعدہ کے پورانہ ہونے کی صورت میں اعتراض ہوسکتاتھا اُسے دور کیا اورسُبْحَانَہٗ کہہ کر اس اعتراض کودورکیاجوسَبِّحْ کے حکم کے پورانہ ہونے کی صورت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑسکتاتھا۔وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔یعنی ان کے شرک سے اللہ تعالیٰ بالاہے۔ان کاشرک اس کی تدابیر میں روک نہیں بن سکتا اوران کے معبود اس کے فیصلہ کونہیں مٹاسکتے۔خدائی کلام اور بندے کے افتراء میں فرق اس آیت سے خدائی کلام اوربندے کے افتراء میں خوب فرق معلوم ہو جاتا ہے۔دنیاکے لوگ جتھے پرزوردیاکرتے ہیں اورکہاکرتے ہیں کہ ہم اپنے جتھے کو بلائیں گے۔اور اکیلے ہوں تواس کی شکایت کرتے ہیں اورکہتے ہیں کیاکریں اکیلے ہیںکوئی ساتھی نہیںورنہ بتادیتے۔بہاءاللہ نے بھی جو الوہیت کامدعی تھااپنے فرید ہونے کارونا روکر اپنی کمزوری کااقرار کیا ہے۔(المبین از بہاء اللہ ص ۲۰۶) اس کے مقابلہ میں سچا خداہمیشہ اپنے ایک ہونے پر زوردیتاہے۔اورخداکے لئے جتھاقراردینے والوں پر ناراض ہوتاہے۔بیٹابیٹیوں یادرباریوں کے ماننے یادرباری کہنے والوں پر اظہار غضب فرماتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جو حقیقی اوراصلی طاقت و شوکت کا مقام ہے۔جھوٹے مدعی اپنے اکیلا ہونے کا ماتم کرتے ہیں سچاخدااپنے اکیلے ہونے کو اپنی بڑائی کے ثبوت میں پیش کرتا ہے۔يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ وہ فرشتوںکو اپنے ان بندوںپر جنہیں وہ پسند کرتاہے (اپنی )خاص وحی یعنی یہ حکم دے کر اتارتاہے کہ (لوگوںکو) عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ آگاہ کرو کہ بات یہی (درست )ہے کہ میرے سواکوئی بھی (سچا)معبود نہیں ہے اس لئے تم مجھے (ہی)اپنے