تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 111

الْکُظُوْمُ اِحْتِبَاسُ النَّفْسِ۔کُظُوْمٌ کے معنے ہیں سانس کا رکنا۔وَیُعَبَّرُ بِہِ عَنِ السُّکُوْتِ۔خاموشی کے موقعہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔کَظَمَ الْغَیْظَ۔حَبَسَہٗ۔غَیْظ کے ساتھ جب کَظَمَ کا لفظ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں غصہ کو روک لیا۔کَظَمَ السِّقَاءَ شَدَّہٗ بَعْدَ مِلْئِہِ مَانِعًا لِنَفَسِہِ۔اور جب سقاء کے لئے کَظَمَ کا لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں مشکیزہ بھر کر پانی کو محفوظ رکھنے کے لئے اس کا منہ بند کر دیا۔پس کظیم ایسے شخص کو کہیں گے کہ جو اپنے اندر غصہ کو دبائے رکھے اور ظاہر نہ ہونے دے۔(مفردات) تفسیر۔یعنی ان کی یہ حالت ہے کہ ان میںسے کسی کوجب بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تواس کامنہ کالا ہو جاتا ہے اورغم اورشرم کے جذبات کو بمشکل دبارہاہوتاہے۔لیکن یہ شخص جوبیٹی کی پیدائش پر سیاہ روہو جاتا ہے اس ہستی کی طر ف جونورہی نور ہے اسی چیز کو جسے اس قدر قابل شرم سمجھتا ہے منسوب کردیتاہے۔يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَيُمْسِكُهٗ (اور) جس بات کی اسے بشارت دی گئی ہے اس کی (مزعومہ)شناعت کے باعث وہ لوگوں سے چھپتا(پھرتا)ہے عَلٰى هُوْنٍ اَمْ يَدُسُّهٗ فِي التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا (اورسوچتاہے کہ )آیاوہ اسے (آئندہ آنے والی)ذلّت کے باوجود(زندہ)رہنے دے یا اُسے (کہیں)مٹی میں يَحْكُمُوْنَ۰۰۶۰ گاڑ دے۔سنو!جورائے وہ قائم کرتے ہیں بہت بری ہے۔حلّ لُغَات۔یَتَوَارٰی :یَتَوَارٰی تَوَارَی سے مضارع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اورتَوَارٰی کے معنے ہیں۔اِسْتَتَرَ چھپ گیا(اقرب)پس یتواریٰ کے معنےہوں گے وہ چھپتا ہے۔ھُوْنٌ ھَانَ الرَّجُلُ ھُوْنًـا کے معنے ہیں۔ذَلَّ وَحَقَرَوہ ذلیل اورحقیر ہوگیا۔ضَعُفَ۔کمزورہوگیا۔اَلْھُوْنُ ھَانَ کامصدرہے۔نیز اس کے معنے ہیں اَلْخِزْیُ۔رسوائی(اقرب) یَدُسُّہٗ یَدُسُّہٗ دَسَّ سے مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اوردَسَّ الشَّیْءَ تَحْتَ التُّرَابِ کے معنی ہیں:اَدْخَلَہٗ فِیْہِ۔وَدَفَنَہٗ تَحْتَہٗ واَخْفَاہٗ کسی چیز کو زمین میں دباکر مخفی کردیا (اقرب)پس اَمْ یَدُسُّہٗ کے معنے ہوں