تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 62
ایک شخص ہیں مگر عورتیں گیارہ ان کے ساتھ ان کے انعامات میں شریک ہوں گی۔اسی طرح نبی کا زوج صدیق ہوتا ہے اور عورتوں کو صدیق کے درجہ پانے سے روکا نہیں گیا۔اب جو عورتیں صدیقیت کے مقام پر پہنچ جائیں وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچائی جائیں گی۔جس طرح تمام صدیق پہنچائے جائیں گے۔کیونکہ وہ مرتبۂ صدیقیت کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں شامل ہوں گی۔وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سے یہ بتانا مطلوب نہیں کہ جنت بڑا مقام ہے اور اس کے بہت سے دروازے ہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ وہ اخلاق حسنہ اور نیکیاں کہ جن کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہوں گے وہ اس جہان میں جنت کے دروازوں کی شکل میں متمثل ہوں گی۔سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ۰۰۲۵ (اور کہیں گے) تمہارے لئے سلامتی ہے۔کیونکہ تم ثابت قدم رہے پس( اب دیکھو کہ تمہارے لئے) اس گھر کا کیا ہی اچھاانجام ہے۔تفسیر۔سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ کہنے کا مطلب ہر دروازہ سے ملائکہسَلٰمٌ عَلَيْكُمْ کہتے ہوئے داخل ہوں گے یعنی ان کو ملائکہ بتائیں گے کہ تم فلاں نیکی کی وجہ سے اس دروازہ سے داخل ہوئے ہو اور فلاں خلق فلاں دروازہ کی شکل میں متمثل ہے اور ان کو سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ کہیں گے۔یہ یاد دلانے کے لئے کہ تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کی وجہ سے اب تم پر ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی نازل ہوگی۔جس طرح تم نے ہر رنگ میں نیکی کی تھی اسی طرح اب ہر رنگ میں تم پر سلامتیاں نازل ہوں گی۔سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ دوام سلامتی پر دلالت کرتا ہے سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ دوام سلامتی پر دلالت کرتا ہے اور بِمَا صَبَرْتُمْ کہہ کر اس دوام کی وجہ بھی بتادی جو یہ ہے کہ جس طرح تم استقلال سے نیکی پر قائم رہے اور باوجود روکوں کے رکے نہیں۔ہم بھی اب دائمی سلامتی تم پر نازل کریں گے۔اس آیت میں آریوں کے اس اعتراض کا جواب بھی آجاتا ہے کہ جب عمل محدود ہیں تو ثواب غیرمحدود کس طرح مل سکتا ہے(ستیارتھ پرکاش باب نہم)۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے زندگی بھر نیکی کو نہ چھوڑا تو اپنا فرض ادا کر دیا۔موت کا آنا تمہارے بس کی بات نہ تھی۔جب تک تمہارا بس تھا تم نے نیکی کے مقام کو نہ چھوڑا اور عمل کرتے رہے۔پس اب مجھ پر واجب ہے کہ میں تم کو ہمیشہ کی کامیابی اور سلامتی عطا کروں۔