تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 61

مراد ہے کہ اولوالالباب ہمیشہ رہنے والی جنتوں کے وارث ہوں گے۔جنات میں مومنوں کے رشتہ داروں کے داخل کئے جانے کی وجہ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىِٕهِمْ۔اور ان کے ماں باپ اور ازواج اور اولادیں جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنات میں داخل ہوں گے۔اس آیت میں ایک عظیم الشان اصلیت اور صداقت کا اظہار اس آیت میں ایک عظیم الشان اصلیت اور صداقت کا اظہار کیا ہے۔اس اصل اور صداقت کو صرف قرآن کریم نے ہی بیان کیا ہے۔دنیا کی اور کسی کتاب نے اس مسئلہ کو نہیں لیا۔دنیا میں کوئی شخص کوئی ایسی نیکی اور بدی نہیں کرتا جس میں دوسرے لوگ کسی نہ کسی رنگ میں شریک نہ ہوں۔تاجر کی تجارت کی کامیابی، زراعت پیشہ کی زراعت کی کامیابی سینکڑوں ہزاروں دوسرے افراد کے دانستہ یا نادانستہ تعاون سے وابستہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے زکوٰۃ مقرر کی ہے اور اس طرح دوسرے لوگوں کا حق دلایا ہے۔یہی حال دوسرے کاموں کا ہے۔مثلاً فرض کرو ایک شخص تبلیغ کے لئے جاتا ہے۔تو اس تبلیغ میں اس کی بیوی کا حصہ بھی ہے کیونکہ وہ اس کی عدم موجودگی میں بھی اس کے گھر اور اس کے بال بچہ کا انتظام کرتی ہے۔ان کی پرورش کرتی ہے۔اگر وہ بال بچوں کی حفاظت نہ کرے تو مبلغ کو تبلیغ کے لئے جانے میں بڑی دقت ہوگی۔اسی طرح اگر والدین نے اچھی طرح تربیت نہ کی ہوئی ہو تو وہ کس طرح دین کے کاموں میں حصہ لے سکے گا۔یا اگر اولاد والدین کو مطمئن نہ بیٹھنے دے تو وہ کس طرح نیکیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔مومن کی نیکیوں میں اس کے رشتہ دار بھی شریک ہوتے ہیں پس چونکہ انسان نیکیوں میں ترقی اپنے رشتہ داروں کی مدد سے کرتا ہے اس کے انعام میں ان کا حصہ رکھا۔اور یہ قانون مقرر کیا کہ سب خاندان میں جو سب سے اعلیٰ مقام کو حاصل کرے دوسرے سب اس کے پاس ہی رکھے جائیں نہ کہ اپنے چھوٹے مقاموں پر۔بشرطیکہ وہ نجات یافتہ ہوں۔اس آیت میں زَوج کے معنے ساتھی کے ہیں زَوج کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے میرے نزدیک اس کے یہاں جوڑے کے معنے ہیں۔یعنی ساتھی کے نہ کے مرد عورت کے۔اور میرے نزدیک اس میں تمام وہ لوگ شامل ہیں جو نیکیوں میں اس کے ممد اور معاون ہوئے ہوں نہ کہ صرف میاں اور بیوی۔اس سے عورتوں کے متعلق بھی سوال حل ہو جاتا ہے کہ وہ نبوت کے مقام پر کیوں نہیں پہنچائی جاتیں کیونکہ اس آیت سے نکلتا ہے کہ نبی کی بیویوں کو بھی اس مقام پر رکھا جائے گا جس مقام پر نبی ہوں گے یعنی گو ان کی بناوٹ کے لحاظ سے ان کو دنیا میں نبی نہیں بنایا جاتا لیکن وہ انہی انعامات میں شریک ہوں گی جو انبیاء کو ملیں گے۔اب دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو