تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 363

آنحضرت ؐ کی ترقی کی ابتداو انتہاء چنانچہ اس پیشگوئی کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے چند لوگوں کے دلوں میں حج کی رغبت پیداکی۔جب وہ حج کے لئے آئے توانہوں نے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا اورآپ سے ملے پھر جاکر اپنی قوم کو ساراحال سنایا۔اوروہاں سے ایک وفد آگیا۔جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے درخواست کی۔کہ آپ مکہ چھوڑ کر ہمارے شہر میں چلے آئیں۔اورآپ نے خدا تعالیٰ کے اذن سے ان کی اس درخواست کوقبول کرلیا(سیرۃ النبی لابن ہشام امر العقبۃ الثانیۃ)۔اورچند دن کے اند ر اندر وہ جو مکہ میں کوئی سر چھپانے کی جگہ نہ پاتے تھے۔ایک زبردست حکومت کے بانی ہوگئے اوروہ دنیوی سامان بھی پیداہوگئے۔جن کے نہ ہونے کی وجہ سے اہل مکہ اپنی فتح یقینی سمجھتے تھے۔اوروہ اس تغیر عظیم کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ۰۰۸۸ اورہم نے یقیناً تجھے دہرائی جانے والی سات(آیات)اور(بہت بڑی)عظمت والاقرآن دیاہے۔حلّ لُغَات۔اَلْمَثَانِی اَلْمَثَانِیْ کے معنے ہیںآیَاتُ الْقُرْآنِ۔قرآن مجید کی آیات۔مِنَ الْوَادِیْ مَعَاطِفَہٗ یعنی مَثَانِی الْوَادِیْ۔وادی کے موڑوں کوکہتے ہیں۔مَثْنَی الْاَیَادِیْ کے معنے ہیں۔اِعَادَۃُ الْمَعْرُوْفِ مَرَّتَیْنِ فَاَکْثَرَ یعنی بار بار احسان کرنے کو مَثْنَی الْاَیَادِیْ کہتے ہیں۔اس میں دوکی شرط نہیں۔بلکہ دویادوسے زیادہ مرتبہ احسان ہو۔مَثَانی الشَّیْ ءِ۔قُوَاہٗ وَطَاقَاتُہٗ۔مَثَانِی الشَّیْءِ سے مراد اس کی قوتیں ہیں۔(اقرب) سبع مثانی کے متعلق مختلف صحابہ اور علماء کا خیال حضرت عمر ؓ ،علی ؓ،ابن مسعودؓ،ابن عباسؓ اورعلماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ سَبْعَ مَثَانِیْ سے مراد اس جگہ سورہ فاتحہ ہے۔اورابوہریرہ سے روایت ہے کہ عَنِ النَّبِیّ صَلَی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّھا(ای الْفَاتِحَۃُ) اَلسَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَاُمُّ الْقُرْاٰنِ وَفَاتِحَۃُ الْکِتَابِ وَسُمِّیَتْ بِذٰلِکَ لِاَنَّھَاتُثَنّٰی فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ سورہ فاتحہ سبع مثانی ہے اور امّ القرآن اورفاتحۃ الکتاب بھی اسے اس لئے مثانی کہتے ہیں کہ یہ ہررکعت میں دہرائی جاتی ہے قِیْلَ لِاَنَّھَا یُثْنَی بِہَاعَلَی اللّٰہِ تَعَالیٰ۔کہ اس کومثانی اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے خدا کی ثناکی جاتی ہے۔ان معنوں کو زجاج نحوی نے جائزقراردیاہے لیکن ابن عطیہ نے قواعد صرف کے خلاف قرار دیا ہے۔علامہ ابوحیان لکھتے ہیں