تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 305

تالوگ دھوکہ نہ کھائیں۔آدم کے واقعہ میں مکالمہ زبان حال میں بیان ہوا ہے نہ کہ فی الحقیقت غرض آد م کے واقعہ میں جو مکالمہ ہے و ہ زبان حال میں بیان ہواہے۔نہ کہ فی الحقیقت کوئی گفتگو اللہ تعالیٰ اورابلیس میں ہوئی۔تورات اور ہندو لٹریچر میں خیر و شر کی قوتوں کا ذکر مکالمہ کے رنگ تورات ا ورہندو لٹریچر میں بھی خیر اورشرّ کی قوتو ں کا ذکر مکالمہ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ہندوئوں میں ہریشچندر کا مشہور قصہ ہے۔اس میں بھی مکالمہ کی صورت میں یہ مضمون بیان کیاگیاہے۔تورات میں بھی خیر اورشرّ کی قوتوں کامقابلہ مکالمہ کی صورت میں ایوب کی کتاب میں کیاگیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دربا ر میں فرشتے اورشیطان حاضرہوئے اورایو ب کی نیکی کا ذکر چل پڑا۔شیطان نے کہا کہ ایوب اس لئے نیک ہے کہ اسے سب کچھ ملا ہواہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ایوب کی آزمائش کرنے کی اسے اجاز ت دی۔وغیرہ وغیرہ (ایوب باب۱آیت ۶تا۱۲)یہی وجہ ہے۔کہ تورات والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایما ن نہیں لائے۔کیونکہ آپؐ کے کلام میں تمثیلیں کم تھیں۔اورواضح عبارتوںمیں مضمون بیان ہوئے تھے۔وہ غلطی سے اپنی کتب میں بیان شدہ مضامین کو حقیقت سمجھ رہے تھے۔جب اسلام نے اللہ تعالیٰ کی صفات اورملائکہ کے وجو د اوروحی اورنبوت کو صاف اورواضح عبارت میں بیان کیا۔تووہ حیران ہوگئے اورسمجھے کہ یہ باتیں تورات کے خلاف ہیں اور سچائی سے دور ہیں۔قرآن مجیدنے باوجود تصویری زبان کے استعمال کر نے کے بہت سی غلط فہمیاں دور کر دی ہیں مگر یاد رکھناچاہیے کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے ا س موقعہ پر تصویری زبان کو استعمال کیاہے۔پھر بھی اس نے بہت سی غلط فہمیاں جو پہلی کتب سے پیداہو تی تھیں مٹادی ہیں۔اور جو دھوکہ تصویر ی زبان سے لگ سکتاتھا اس کاازالہ کردیاہے۔مثلاً بائیبل میں تو یہ کہا گیاتھاکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اصلی جنت میں رکھا اوراصل جنت کی علامت یہ ہے۔کہ اس میں گناہ کاصدورنہیں ہوسکتا(پیدائش باب ۲ آیت ۱۵)۔لیکن باوجود اس کے بائبل کہتی ہے آدم نے گناہ کیا(پیدائش باب ۳ آیت ۱۷)۔لیکن قرآن کریم نے گو آدم کے مقام کانام بعض جگہ جنت رکھا ہے۔مگر دوسری جگہ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَۃَ۔(البقرۃ:۳۱) کہہ کر اس مجاز کی حقیقت بھی بیان کر دی ہے۔اسی طرح اوربہت سے مسائل آدم کے متعلق جو قصہ آدم میں بیان ہوئے ہیں وہ دوسری آیات کے ذریعہ سے یاانہی آیات کے بعض حصوں سے حل کردیئے گئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کو خیر اورشر کی طاقت دی گئی۔تودونوں قسم کے محرکات اس کے لئے ضروری