تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 299

اورعالمِ مثال میں ایسی باتیں نظر آجاتی ہیں۔انہوں نے کشف سے بعض امور دیکھے۔اور چونکہ عوام میں جنّات کا عقیدہ تھا اورقرآن کریم میں بھی لفظ جنّ کااستعمال ہواہے انہوں نے ان مثالی وجودوںکو اصلی وجود سمجھ لیا۔جنات کے متعلق اپنا ذاتی تجربہ میرااپنا ذاتی تجر بہ اس بارہ میں یہ ہے کہ کئی مختلف وقتوں میں لوگوں نے مجھے ایسے خطوط لکھے ہیں۔کہ جنّات ان کے گھر میں آتے اورفساد کرتے ہیں۔میں نے ہمیشہ اپنے خرچ پر ا س مکان کا تجربہ کرناچاہا۔لیکن ہمیشہ ہی یاتویہ جواب ملا کہ اب ان کی آمد بندہوگئی ہے۔یایہ کہ آپ کے خط آنے یا آپ کاآدمی آنے کی برکت سے وہ بھاگ گئے ہیں۔میرااپنا خیال ہے کہ جوکچھ ان لوگوں نے دیکھا ایک اعصابی کرشمہ تھا۔میرے خط یا پیغامبرسے چونکہ انہیں تسلی ہوئی وہ حالت بدل گئی۔اگر اس تفسیر کے پڑھنے والوں میں سے کسی صاحب کو اس مخلوق کاتجربہ ہو۔اوروہ مجھے لکھیں۔تومیں اپنے خرچ پر اب بھی تجربہ کرانے کوتیارہوں۔ورنہ جوکچھ میں متعدد قرآنی دلائل سے سمجھا ہوں یہی ہے کہ عوام الناس میں جو جنّ مشہور ہیں اورجن کی نسبت کہا جاتاہے کہ وہ انسانوں سے تعلق رکھتے اوران کو چیزیں لاکردیتے ہیں۔یہ محض خیال اوروہم ہے۔یامداریوں کے تماشے ہیں جن کے اندرونی بھید کے نہ جاننے کی وجہ سے لوگوں نے ان کو جنّات کی طرف منسوب کردیاہے۔اس علم کا بھی میں نے مطالعہ کیا ہے۔اوربہت سی باتیں ان ہتھکنڈے کرنے والوں کی جانتاہوں۔ہاں! یہ میں مانتاہوں۔کہ ممکن ہے پہلے انسان ناری وجود ہو۔اورزمانہ کے تغیرات سے بدلتے بدلتے ارتقاء کے ماتحت طینی وجود ہوگیا ہو۔یعنی اس کی بناو ٹ کی بنیاد زمینی پیداوار پر آگئی ہو۔اورایسے وجود جو سب سے پہلے تیارہوئے۔ان کاسردار آدم ہو یہ کوئی بعید بات نہیں۔علم جیالوجی سے یہ امر ثابت ہے کہ دنیا میں مٹی کاچھلکا بعد میں بنا ہے پہلے دنیا ایک گرم آگ کا کرّہ تھی۔سو ارتقاء کے لحاظ سے اگر طینی ابتدا سے پہلے انسان کی ابتدا ناری وجود سے تسلیم کی جائے تومستبعد نہیں۔مگریہ امور تخمینی ہیں۔ان کو یقین سے بیان نہیں کیاجاسکتا۔اس لئے میں نے اس کے متعلق زیادہ نہیں لکھا۔اس مضمون کا کچھ حصہ قصہ آدم اورشیطان سے بھی حل ہوگا۔اس کے لئے سورہ بقرہ میں قصہ آدم کاموقعہ دیکھنا چاہیے۔