تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 251
سے انہیں بھگانے کے لئے ان پر پتھرائو ہوتاہے اوراس کے علاوہ بھی انہیں قائم رہنے والا عذاب ملے گا(وہ سن تو نہیں سکتے )لیکن اگر کوئی بات اچک لے جائے۔تواس کے پیچھے چمکتاہواشہاب جاتاہے (اوراسے تباہ کردیتاہے ) (۴)سورئہ جنّ میں ہے۔وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّ شُهُبًا۔وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا۔(الجن : ۹،۱۰) اورہم نے آسمان کے بارہ میں جستجو کی ہے اوریہ معلوم کیا ہے۔کہ اس میں سخت پہرہ لگاہواہے۔اورشہب بھی مقرر ہیں۔اوراس سے پہلے تو ہم آسمان میں سننے کی جگہوں پر بیٹھاکرتے تھے۔مگر اب جو سننے لگتاہے وہ اپنے پر ایک شہاب کو نگران پاتاہے (۵)حٰم سجدہ میں ہے وَ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ(حم السجدۃ:۱۳)اورہم نے ورلے آسمان کو چراغوں سے مزیّن کیا ہے۔اوران کو ذریعہ حفاظت بھی بنایا ہے۔یہ غالب اورعلم والے خدا کی تقدیرہے۔شہب گرنے کے متعلق مختلف مفسرین کا بیان یہ پانچ مقام ہیںجن میں اس مضمون کو تفصیلاً یااجمالاً بیان کیاگیاہے۔مفسرین اس کی حقیقت یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب اپنی وحی ملائکہ پر نازل کرتاہے تووہ درجہ بدرجہ نیچے اترتی ہے جب سماء الدنیا تک پہنچتی ہے توجنّ ایک دوسرے پر چڑھ کر آسمان تک پہنچتے ہیں اوراس خبرکو اُڑانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ خبریں اُچک اُچکا کر جب وہ دوڑتے ہیں۔توان کے پیچھے شہب مارے جاتے ہیں اس کے آگے اختلاف ہے۔حضر ت ابن عباس ؓکی طرف یہ روایت منسوب کی جاتی ہے۔کہ شہب شیطانوں کو مارنہیں سکتے۔بلکہ زخمی کردیتے ہیں یابعض عضو توڑ ڈالتے ہیں لیکن حسن بصریؒ اورایک اورگروہ کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ شیطان قتل کردیئے جاتے ہیں۔جوکہتے ہیں کہ شیطان قتل کردیئے جاتے ہیں وہ آگے پھر مختلف الخیال ہیں۔ایک گروہ کہتاہے کہ جب وہ ساحروں اورکاہنوں کوخبر پہنچالیتے ہیں توپھر ماردیئے جاتے ہیں اورماوردی کاقول یہ ہے کہ خبرپہنچانے سے پہلے ہی شہب ان کو جاپکڑتے ہیں اورماردیتے ہیں۔(فتح البیان زیر آیت ھٰذا) پھر مفسرین نے یہ بحث بھی کی ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی شہاب پھینکے جاتے تھے اکثروں نے توکہا ہے۔کہ ہاں پہلے بھی پھینکے جاتے تھے۔مگر بعض کہتے ہیں کہ نہیں۔آپؐ کی بعثت سے پہلے (یعنی زمانہ فترۃ میں)نہیں پھینکے جاتے تھے۔دوسر ے خیال کے ظاہر کرنے والوںمیں علامہ زجاج بھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی علامت تھی۔آپؐ کی بعثت سے پہلے شہب نہ گرتے تھے ورنہ شعراء کے کلام میں اس کا ذکر ہوتا۔مؤلف فتح البیان لکھتے ہیں کہ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو شہب کثرت سے گرے تاکہ غیب کی حفاظت اچھی طرح کی جاوے اورآپؐ کی بعثت سے پہلے کم گرتے