تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 234

الرَّجْمُ اَیْضاً اَنْ یَّتَکلَّمَ بِالظّنِ۔رجم کے معنے غیر یقینی بات کرنے کے بھی ہیں جیسے آیت رَجْمًۢا بِالْغَيْبِ میں رجم کے معنے ہیں۔لَایُوْقَفُ عَلیٰ حقیْقَتِہٖ۔یعنی بات کی حقیقت سے واقف نہ تھا۔اِسْمُ مَایُرجَمُ بہٖ جس چیز سے ماراجائے اس کو بھی رجم کہتے ہیں۔اس کی جمع رُجُوم آتی ہے۔(اقرب) الرِّجَامُ۔اَلْـحِجَارَۃُ۔رجام کے معنے پتھروں کے ہیں۔اورالرَّجْمُ کے معنے ہیں۔الرَّمْیُ بِالرِّجَامِ کسی کو پتھر مارنا۔جب کسی پر پتھرائو کیاجائے۔تورُجِمَ بصیغہ مجہول استعمال کرتے ہیں۔وَیُسْتَعَارُ الرَّجْمُ لِلرَّمِیِ بِالظَّنِّ۔اوراِسْتِعَارَۃً رجم کالفظ خیالی اورغیر یقینی بات کے کرنے پر بھی بولاجاتاہے۔وَالتَّوَھُّمِ وَلِلشَّتْمِ والطَّرْدِ۔نیز یہ لفظ وہم سے بات کرنے۔گالی دینے اوردھتکارنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے۔اور الشَّیْطَانُ الرَّجِیْمُ کے معنے ہیں۔اَلْمَطْرُوْدُعَنِ الْخَیْراتِ۔نیکیوں سے دور خوبیوں سے محروم و عاری۔وَعَنْ مَنَازِلِ الْمَلَاءِ الْاِعْلیٰ فرشتوں کے مقامات سے دورکیاہوا(مفردات)اورمجمع البحارمیں ہے۔وَرُجُوْمًا لِلشَّیَاطِیْنِ وَعَلَامَاتٍ ھُوَجَمْعُ رَجْمٍ مَصْدَرٌ سُـمِّیَ بِہٖ۔رجم کالفظ مصدر ہے جو اسم کے طور پر استعمال ہواہے۔اور رجوم اس کی جمع ہے۔وَیَجُوْزُکَوْنُہُ مَصْدَرًا لَاجَمْعًا اوریہ بھی ہو سکتاہے۔کہ رجوم مصدرہونہ کہ جمع۔ومَعْنَاہُ اَنَّ الشُّھُبَ الَّتِیْ تَنْقَضُّ مُنْفَصِلَۃً مِنْ نَارِ الْکَوَاکِبِ ونُوْرِھَا لَااَنَّھُمْ یُرْجَمُوْنَ بِاَنْفُسِ الْکَواکِبِ لِاَ نّہا ثَابِتَۃٌ لَاتَزُوْلُ کَقَبَسٍ تُوْخَذُ مِنْ نَارٍ۔یعنی وہ شہب جو ستاروں کی آگ سے علیحدہ ہوکر ٹوٹتے ہیں۔وہ خود ستارے نہیں ہوتے۔بلکہ ستاروں سے روشنی گرتی ہے کیونکہ ستارے اپنی جگہ پر قائم ہیں اورشہب کاگرنا اسی طرح ہوتاہے جیسے ایک چنگاری آگ سے لی جاتی ہے۔وَقِیْلَ اَرَادَ بِالرُّجُوْمِ الظُّنُوْنَ الَّتِیْ تُحْزَرُومِنْہُ وَ یَقوْلُوْنَ خَمْسَۃٌسَادسُہُمْ کَلْبُہُمْ رَجْمًا بِالْغَیْبِ۔اوربعض محققین نے یہ کہاہے کہ رجوم سے مراد وہ خیالات ہیں جو اپنے قیاس سے بغیر دلیل کے انسان بنالیتا ہے اورانہی معنوں میں قرآن میں لفظ رجمًا بالغیب استعمال ہواہے۔یعنی وہ غیب کے متعلق صرف اندازے لگاتے ہیں۔(اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ دیکھیں) الرَّجْمُ اَیْضاً اَنْ یَّتَکلَّمَ بِالظّنِ۔رجم کے معنے غیر یقینی بات کرنے کے بھی ہیں جیسے آیت رَجْمًۢا بِالْغَيْبِ میں رجم کے معنے ہیں۔لَایُوْقَفُ عَلیٰ حقیْقَتِہٖ۔یعنی بات کی حقیقت سے واقف نہ تھا۔اِسْمُ مَایُرجَمُ بہٖ جس چیز سے ماراجائے اس کو بھی رجم کہتے ہیں۔اس کی جمع رُجُوم آتی ہے۔(اقرب) الرِّجَامُ۔اَلْـحِجَارَۃُ۔رجام کے معنے پتھروں کے ہیں۔اورالرَّجْمُ کے معنے ہیں۔الرَّمْیُ بِالرِّجَامِ کسی کو پتھر مارنا۔جب کسی پر پتھرائو کیاجائے۔تورُجِمَ بصیغہ مجہول استعمال کرتے ہیں۔وَیُسْتَعَارُ الرَّجْمُ لِلرَّمِیِ بِالظَّنِّ۔اوراِسْتِعَارَۃً رجم کالفظ خیالی اورغیر یقینی بات کے کرنے پر بھی بولاجاتاہے۔وَالتَّوَھُّمِ وَلِلشَّتْمِ والطَّرْدِ۔نیز یہ لفظ وہم سے بات کرنے۔گالی دینے اوردھتکارنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے۔اور الشَّیْطَانُ الرَّجِیْمُ کے معنے ہیں۔اَلْمَطْرُوْدُعَنِ الْخَیْراتِ۔نیکیوں سے دور خوبیوں سے محروم و عاری۔وَعَنْ مَنَازِلِ الْمَلَاءِ الْاِعْلیٰ فرشتوں کے مقامات سے دورکیاہوا(مفردات)اورمجمع البحارمیں ہے۔وَرُجُوْمًا لِلشَّیَاطِیْنِ وَعَلَامَاتٍ ھُوَجَمْعُ رَجْمٍ مَصْدَرٌ سُـمِّیَ بِہٖ۔رجم کالفظ مصدر ہے جو اسم کے طور پر استعمال ہواہے۔اور رجوم اس کی جمع ہے۔وَیَجُوْزُکَوْنُہُ مَصْدَرًا لَاجَمْعًا اوریہ بھی ہو سکتاہے۔کہ رجوم مصدرہونہ کہ جمع۔ومَعْنَاہُ اَنَّ الشُّھُبَ الَّتِیْ تَنْقَضُّ مُنْفَصِلَۃً مِنْ نَارِ الْکَوَاکِبِ ونُوْرِھَا لَااَنَّھُمْ یُرْجَمُوْنَ بِاَنْفُسِ الْکَواکِبِ لِاَ نّہا ثَابِتَۃٌ لَاتَزُوْلُ کَقَبَسٍ تُوْخَذُ مِنْ نَارٍ۔یعنی وہ شہب جو ستاروں کی آگ سے علیحدہ ہوکر ٹوٹتے ہیں۔وہ خود ستارے نہیں ہوتے۔بلکہ ستاروں سے روشنی گرتی ہے کیونکہ ستارے اپنی جگہ پر قائم ہیں اورشہب کاگرنا اسی طرح ہوتاہے جیسے ایک چنگاری آگ سے لی جاتی ہے۔وَقِیْلَ اَرَادَ بِالرُّجُوْمِ الظُّنُوْنَ الَّتِیْ تُحْزَرُومِنْہُ وَ یَقوْلُوْنَ خَمْسَۃٌسَادسُہُمْ کَلْبُہُمْ رَجْمًا بِالْغَیْبِ۔اوربعض محققین نے یہ کہاہے کہ رجوم سے مراد وہ خیالات ہیں جو اپنے قیاس سے بغیر دلیل کے انسان بنالیتا ہے اورانہی معنوں میں قرآن میں لفظ رجمًا بالغیب استعمال ہواہے۔یعنی وہ غیب کے متعلق صرف اندازے لگاتے ہیں۔(اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ دیکھیں)