تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 233

بُرُوْجًا۔بُرُوْجًا بُرُوْجٌ کامفرد بُرْجٌ ہے۔اوراَلْبُرْجُ کے معنے ہیں۔الرُّکْنُ وَالْحِصْنُ۔مضبوط سہارا۔پناہ گاہ۔قلعہ۔اَلْقَصْرُ۔محل۔وَاحِدُ بُرُوْجِ السَّمَائِ آسمان کے برجوں میں سے ایک برج یعنی ستاروں کے چکر لگانے کی منزل۔بُرْجٌ کی جمع بُرُوْجٌ کے علاوہ اَبرَاجٌ اوراَبْرِجَۃ بھی آتی ہے۔(اقرب) البروج۔القُصُوْرُ۔محلات۔منازل۔وَبِہِ سُمِّیَ بُرُوجُ النُّجُوْمِ لِمَنَازِلھَا الْمُخْتَصَّۃِ بِھا۔اور ستاروں کی منازل کو بھی برو ج کہاجاتاہے۔(مفردات) لِلنَّاظِرِیَنَ۔نَظَرَسے اسم فاعل نَاظِرٌ آتاہے اوراس کی جمع نَاظِرُوْنَ آتی ہے۔نَظَرَ اِلَیْہِ نَظْرًاکے معنے ہیں اَبْصَرَہٗ۔کسی چیز کو دیکھا۔وتَأَمَّلَہ بِعَیْنِہِ کسی چیز کو آنکھ سے خوب غور سے دیکھا۔مَدَّ طَرَ فَہُ اِلَیْہِ رَاٰہُ اَوْلَمْ یَرَہُ۔کسی چیز کی طرف نگاہ اٹھائی خواہ چیز کو دیکھ سکے یا نہ دیکھ سکے۔ونَظَرَتِ الْاَرْضُ۔اَرَتِ الْعَینَ نَبَا تَھَا۔زمین نے اپنی سرسبزی آنکھ کو دکھائی۔نَظَرَبَیْنَ النَّاسِ۔حَکَمَ وَفَصَلَ دَعَاوِیَھُمْ لوگوں کے دعاوی کافیصلہ کیا۔نَظَرَ فِی الْاَمْرِ نَظْرًا تَدَبَّرَہُ وَفَکَّرَ فِیْہِ یُقَدِّرُہُ وَیَقِیْسُہُ۔کسی معاملہ کو کسی اورمعاملہ پر قیاس کرتے ہوئے اس پر غورکیا۔(اقرب) شیطان کے معنے کے لئے دیکھو سورۃ یوسف آیت نمبر ۱۰۱۔شَیْطٰنُ کا لفظ دو مختلف مادوں سے بن سکتا ہے۔(۱) شَطَنَ۔(۲) شَاطَ۔یا تو یہ شَطَنَ سے فَیْعَالٌ کے وزن پر ہے اور شَطَنَ عَنْہُ کے معنے ہیں اَبْعَدَ دور ہو گیا۔اور شَطَنَ الدَّارُ کے معنے ہیں گھر دور ہو گیا۔پس اس مادہ کے لحاظ سے اس کے معنے ہوں گے کہ وہ ہستی جو حق سے خود بھی دور ہے اور دوسروں کو بھی دور کرنے والی ہے اور اگر شَاطَ اس کا مادہ مانا جائے تو اس کے معنے ہوں گے کہ وہ ہستی جو حسد اور تعصب کی وجہ سے جل جائے یا ہلاک ہو جائے۔کیونکہ شَاطَ الشَّیْءُ کے معنے ہیں اِحْتَرَ قَ جل گئی اور شَاطَ فُلَانٌ کے معنی ہیں ھَلَکَ ہلاک ہو گیا۔شَیْطٰنٌ اس سے فَعْلَانٌ کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ان معنوں کے علاوہ شَیْطَنٌ کے معنے لغت میں مندرجہ ذیل لکھے ہیں۔رُوْحٌ شَرِیْرٌ۔بدروح۔کُلُّ عَاتٍ مُتَمَرِّدٍ۔سرکش اور حد سے بڑھنے والا۔الـحَیَّۃُ سانپ۔(اقرب) رَجیم۔رَجِیْمٌ رَجَمَ میں سے ہے۔اوررَجَمَہُ رَجْمًا کے معنے ہیں۔رَمَاہُ بِالْحِجَارَۃِ۔اس پر پتھر برسائے۔قَتَلَہُ اس کو قتل کیا۔قَذَفَہُ۔اس پر تہمت لگائی۔لَعَنَہٗ۔لعنت کی۔شَتَمَہُ۔گالی دی۔ھَجَرَہُ۔چھوڑ دیا۔ترک کردیا۔اَلْقَبْرَ۔علَّمَہُ۔قبرپر نشان لگایا۔جَاءَ یَرْجُمُ کے معنے ہیں۔اِذَا مَرَّ وَھُوَ یَضْطَرِمُ فِیْ عَدْوِہٖ۔تیزی سے دوڑتا ہوا گزرا۔الرَّجُلُ۔تَکلَّم بِالظَّنِ ظنی بات کی۔(اقرب)