تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 225
یہ امر ظاہر ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کسی کلام کو دنیا کے لئے قابل عمل سمجھے گا۔اس میں یہ خوبیاں پائی جائیں گی او ر جب اللہ تعالیٰ کسی کلام کو ضرور ت زمانہ کے پوراکرنے سے قاصر قرار دےدے گااور اس کی حفاظت چھوڑ دے گاتاکہ نئے سرے سے ایساکلام نازل کرے۔جو ضرورت زمانہ کے مطابق ہو تو مذکورہ بالا امور اس نئے کلام کے ذریعہ سے پورے ہونے لگیں گے اورسابق کلام سے پورے نہ ہوں گے اورجب وہ ضرورت جس کے لئے کلام الٰہی نازل ہوتاہے۔پوری نہ ہوگی۔تو اس کی حفاظت کی بھی ضرورت نہ رہے گی۔اورجب اللہ تعالیٰ کی حفاظت اُٹھ جائے گی تو شرارتی لوگوں کو اس کلام میں دخل دینے کا او ر تحریف کرنے کا موقعہ بھی ملتارہے گا۔ہر نبی کی وحی جب تک الذکر رہی اس کی حفاظت ہوتی رہی خلاصہ کلام یہ کہ باوجود اللہ تعالیٰ کے وعد ہ کے کہ و ہ ہر نبی کی وحی کی حفاظت کرے گا۔پہلے انبیاء کی وحی اگر محفوظ نہیں رہی۔توقابل اعتراض نہیں۔کیونکہ قرآن نے الذکر کی شرط لگائی ہے۔جب تک وہ الذکر رہے۔ان کی حفاظت ہوتی رہی۔جب وہ الذکر نہ رہے ان کی حفاظت کاوعدہ ختم ہوگیا۔اوریہ کہ وہ الذکر نہ رہے۔ایک بدیہی بات ہے۔کم سے کم اپنے زمانہ میں ہم میں سے ہر اک اس کاتجربہ کرسکتاہے۔آج کل سوائے اسلام کے ایک مذہب بھی نہیں جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ اس کے پیروئوں میں کو ئی ایسا شخص موجود ہے۔جو الذکر کا عملی ثبوت ہو یعنے اس کایہ دعویٰ ہوکہ اپنے مذہب کی کتاب پر چل کر اسے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگیاہے۔اورخدا تعالیٰ اسے یاد کرتاہے یعنے اس سے کلام کرتاہے ا ور اس کے لئے اپنی قدرتوں کو ظاہر کرتاہے۔جو الذکر کا مفہوم ہے۔پس جب عملاًوہ کتب الذکر کا مصدق نہیں رہیں۔تو ان کی حفاظت بھی جاتی رہی اور ان کے محرّف و مبدّل ہونے میں کوئی آسمانی روک نہیں۔قرآن مجید اب تک ذکر ہے باقی رہاسوال کایہ حصہ کہ پھر کیوں قرآن کریم کی نسبت بھی یہ نہ تسلیم کیاجائے کہ وہ بھی حفاظت سے باہر ہوگیا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اب تک الذکر ہے۔اس پر چل کر آج بھی انسان خدا تعالیٰ کو پاسکتاہے۔پس چونکہ وہ اس ضرورت کو پورا کررہاہے جس کے لئے اسے نازل کیاگیاتھاوہ خدا تعالیٰ کی حفاظت سے باہرنہیں ہوسکتااور کسی کی جرأت نہیں ہو سکتی کہ اس کے اند رکوئی تغیّر و تبدّل کرے۔اب رہا سوال آئندہ کاسو اس کااول تویہ جواب ہے کہ اس وقت تک اس میں کوئی تغیر نہیں ہوااورآئندہ کے لئے قرآن کریم میں پیشگوئیاں موجود ہیں کہ جب بھی مسلمان اسلام سے غافل ہوں گے اللہ تعالیٰ مامور بھیجتا رہے گا۔پس اس وعد ہ کی موجودگی میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ چونکہ قرآن کریم سے ہمیشہ دنیا کی ضرورت پوری ہوتی رہے گی وہ نسخ کو قبول نہیں کرے گااور جب وہ نسخ کو قبول نہیں کرے گاتویقیناً وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے