تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 221

تھے۔ان کو جمع کرنے لگے تو باقی دنیا کے حالات ساتھ ہی جمع کردیئے۔پھر علم حدیث شروع ہواتوقرآن مجید کی خدمت کے لئے تامعلوم ہوسکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے کیامعنے کئے ہیں؟ قرآن مجید کی حفاظت کے لئے علوم کی تجدید پھر اہل فلسفہ کے قرآن مجید پر اعتراضات کے دفعیہ کے لئے مسلمانوں نے فلسفہ وغیرہ علوم کی تجدید کی اورعلم منطق کے لئے نئی مگر زیادہ محقق راہ نکالی۔پھر طب کی بنیاد بھی قرآن مجید کے توجہ دلانے پر ہی قائم ہوئی۔نحو میں مثالیں دیتے تھےتوقرآن مجید کی آیات کی۔ادب میں بہترین مجموعہ قرآن مجید کی آیات کو قراردیاگیاتھا۔غرض ہر علم میں آیاتِ قرآنی کو بطور حوالہ نقل کیاجاتاتھااورمیں سمجھتاہوں کہ اگر ان سب کتابوں سے آیات کوجمع کیاجائے تو ان سے بھی ساراقرآن جمع ہوجائے گا۔مسلمانوں میں قرآن کریم کی خدمت کے لئے دوسرے علوم کی طرف رجوع کاایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہواکہ پہلی کتابوں سے تو دنیوی علماء کا طبقہ سخت بے زار تھا مگرمسلمانوں میں سے ان علوم کے ماہر ہمیشہ قرآ ن مجید کے خاد م رہے ہیںکیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم سچے علوم کادشمن نہیں بلکہ مؤید ہے۔قرآن مجید کی حفاظت کے لئے علمی عربی زبان کی تبدیلی بند ہوگئی ایک بہت بڑاذریعہ قرآن مجید کی حفاظت کایہ بھی ہواکہ نزول قرآن کے بعد علمی عربی زبان کی تبدیلی بند ہوگئی۔عربی کے سوادنیا میں کو ئی ایسی زبان نہیں پائی جاتی جو آج بھی وہی ہو جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھی چاسر اورشیکسپیر کی تین سوسال قبل کی انگریزی کی تشریح کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت بدل چکی ہے مگرقرآن مجید کے سمجھنے کے لئے پرانی لغتوں کی ضرورت نہیںکیونکہ جو شخص علمی عربی آج پڑھتاہے وہ قرآن کریم کو بھی بغیر کسی کی مددکے سمجھ سکتاہے۔قرآن مجید کی حفاظت الہام کے ذریعہ ان ظاہری سامانوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کاایک ایساذریعہ بھی مقرر کیاجس میں ملائکہ کا بھی دخل نہیں اوروہ الہام ہے۔الہام میں ملائکہ بعض اوقا ت صرف پہنچانے والے ہوتے ہیں مگر انہیں اس کاسبب نہیں قرار دیاجاسکتا۔قرآن مجید کی حفاظت مامورین اور مجددین کے ذریعہ حق یہ ہے کہ خدا کاکلام بندے کے ساتھ براہ راست ہوتاہے۔ملائکہ صرف بطور واسطہ کے ہوتے ہیںاوراسی وجہ سے ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ‘‘ کہہ کر یہ بتایاہے کہ ہم اس کلام کی آئندہ تازہ بتازہ الہام کے ذریعہ سے حفاظت کرتے رہیں گے یعنی مجدد اورمامور وغیرہ مبعوث کرتے رہیں گے۔یہ ظاہر ہے کہ جس کتاب کے لفظ تو محفوظ ہوں۔مگرمعنوں کی حفاظت نہ ہووہ محفوظ کتاب نہیں کہلاسکتی مثلاً وید