تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 220

قرآن کریم کو بغیر معنے پڑھنے پر عیسائیوں کا اعتراض اور اس کا جواب عیسائی لوگ ہمیشہ اعتراض کیاکرتے ہیں کہ مسلما ن قرآن کریم کوبے معنی ہی پڑھتے رہتے ہیں۔اس کے معنی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے لیکن اگر غورکیاجائے تویہ بھی ا س آیت میںمذکور وعدہ کی تصدیق ہے۔مسلمانوں کے دل میں اللہ تعالیٰ نے کس طرح قرآن کریم کی محبت ڈال دی ہے کہ معنی آئیں یا نہ آئیں وہ اسے پڑھتے چلے جاتے ہیں۔یقیناً ہرمسلمان کافرض ہے کہ قرآن کریم کو بامعنی پڑھے اوراس طرف سے تغافل بڑی تباہی کاموجب ہواہے۔مگر باوجود معنے نہ جاننے کے مسلمانوں کاقرآن کریم کو یاد کرتے چلے جانایقیناً اس آیت میں مذکور وعدہ کے پوراہونے کی دلیل ہے۔آج اگر بائیبل کے سارے نسخے جلادیئے جائیں توبائبل کے پیرواس کابیسواں حصہ بھی دوبارہ جمع نہیں کرسکتے لیکن قرآن مجید کو یہ فخر حاصل ہے کہ اگر(بفر ض محال)سارے نسخے قرآن مجید کے دنیا سے مفقود کردیئے جائیں تب بھی دوتین دن کے اند ر مکمل قرآن مجید موجود ہو سکتا ہے۔اوربڑے شہر تو الگ رہے ہم قادیان جیسی چھوٹی بستی میں اسے فوراً حرف بحرف لکھواسکتے ہیں۔دنیا کی کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں کہ جسے مٹادیاجائے اوروہ پھر بھی محفوظ رہے سوائے قرآن پاک کے۔ایک ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کے لئے یہ مقرر فرمایاکہ ایسے سامان کردیئے کہ قرآن مجید اپنے نزول کے معاً بعد تمام دنیا میں پھیل گیااوراب اس میں تغیروتبدل کاامکان ہی نہیں رہا۔کہاجاتاہے کہ ایک مرتبہ روسی حکومت نے ارادہ کیاکہ جہاد کی آیات نکال کر قرآن چھپوائیں مگر اسے بتایاگیاکہ قرآن مجید تو تمام دنیا میں پھیلاہواہے اوریہ آیات ہرجگہ موجود ہیں پھر تم ان کو کیسے نکال سکو گے۔اس سے وہ اپنے ارادوں سے باز رہی۔ایک ذریعہ قرآن مجید کی حفاظت کا یہ تھا کہ اسلامی علوم کی بنیاد قرآن مجید پر قائم ہوئی۔اس ذریعہ سے اس کی ہرحرکت و سکون محفوظ ہوگئے مثلاً نحو پیداہوئی توقرآن مجید کی خدمت کے لئے چنانچہ نحو کے پیدا ہونے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ابوالاسوددئولی حضرت علیؓ کے پاس آئے کہ ایک نیا مسلمان’’اِنَّ اللّٰہَ بَرِیْءٌ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلُہٗ‘‘کی بجائے وَرَسُوْلَہٖ پڑھ رہاتھاجس سے ڈرہے کہ نو مسلموںکو قرآن مجید کے مطالب سمجھنے میں مشکل پیش آئے۔حضرت علیؓاس وقت گھوڑے پر سوار جارہے تھے اسی حالت میں آپ انہیں بعض قواعد نحو بتاتے چلے گئے اورفرمایاکہ اسی قسم کے قواعد کو ضبط میں لے آئو۔اس سے ان نومسلموں کوصحیح تلاوت کی توفیق ملے گی اور کچھ قواعد بناکر فرمایا اُنْـحُ نَحْوَہٗ یعنی اسی رنگ میں اورقواعد تیار کرلو۔اس فقرہ کی وجہ سے عربی گریمر کانام نحو پڑ گیا۔پھر مسلمانوں نے تاریخ ایجاد کی توقرآن مجید کی خدمت کی غرض سے کیونکہ قرآن مجید میں مختلف اقوام کے حالات آئے