تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 215
فرماتا ہے کہ اے نادانو!تم فرشتے کہتے ہواس کلام کی تووہ عظمت ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے ہم خود آئیں گے اوردیکھیں گے کہ کون اس کلام پر بدنیتی سے ہاتھ ڈالتاہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ فرشتے قرآن کریم کی حفاظت نہیں کرتے۔کیونکہ جب خداجوآقاہے وہ حفاظت کرتاہے توفرشتے توبدرجہ اولیٰ حفاظت کریں گے مگر اِنَّالَہُ لَحٰفِظُوْنَ فرماکر ایک زائد بات بیان کی کہ اس میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جن کی حفاظت فرشتے بھی نہیں کرسکتے۔بلکہ ان کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمّے لی ہے۔ہرچیز کی حفاظت فرشتے کرتے ہیں۔مگرخدا تعالیٰ کے براہِ راست حفاظت کرنے میں ایک حکمت ہے اورقرآن مجید کو عام چیزوں سے ممتاز کرنے والافرق ہے جسے میں آگے چل کر بیان کروں گا۔یہ آیت اسلام کی صداقت کاایک زبردستثبوت ہے اوراگر کوئی بے تعصب انسان اس آیت پر غور کرے تو سمجھ سکتاہے کہ یہ دعویٰ انسانی نہیں۔تمام مفسّر متفق ہیں کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ابن ہشام کابیان ہے کہ یہ آیت دعویٰ نبوت کے چوتھے سال میں نازل ہوئی۔انگریز مصنف عام طور پر اس بات کے شائق ہوتےہیں کہ وہ مسلمان مفسرین سے اختلاف کریں اور اس کے لئے انہوں نے ایک انٹرنل شہادت(اندرونی شہادت)کا قاعدہ بنارکھاہے یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ بات قرآن کے اندرسے نکلتی ہے۔مگروہ اس طریق کو ایساغلط اوربے جااستعمال کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتاہے۔کہ یہ اندرونی شہادت قرآن کی نہیں ہوتی بلکہ ان کے نفس کی ہوتی ہے۔مگراس ضمن میں مجھے انگریزی حوالے دیکھتے ہوئے یہ دیکھ کرخوشی ہوئی کہ اس بارہ میں مستشرقین کوبھی اختلاف کی گنجائش نہیں ملی۔چنانچہ سپرینجرنے کہا ہے۔کہ یہ سورۃ دعویٰ نبوت کے چوتھے سال میں نازل ہوئی تھی۔روڈویل جس نے ترتیب کی تحقیق کے متعلق بزعم خودایک کمال حاصل کیاہے۔لکھتاہے کہ یہ سورۃ ابتدائی سالوں کی سورتوں میں سے ہے۔چنانچہ اس نے اپنی ترتیب میں اسے ابتدائی سالوں کی سورتوں میں ہی رکھاہے۔نولڈک نے کسی قدراختلاف کیاہے اوراس کی بنیاد وہی غلط قاعدہ (انٹرنل شہادت کا)ہے۔وہ لکھتاہے کہ :۔(۱) اس میں کفار کی سختیوں کا ذکر ہے اس لئے یہ ابتدائی سالوں کی سورۃ نہیں ہوسکتی (۲) اس میں یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ آتاہے۔یہ باقی ابتدائی سورتوں میں نہیں آتا۔لہٰذایہ بھی ابتدائی زمانہ کی نہیں (۳)اس میں مشرکین کالفظ ہے اس لئے یہ ابتدائی زمانہ کی نہیں ہوسکتی ہاں مکّی ضرور ہے۔مکی زندگی کے آخری ایام میں اُتری ہے۔مجھے اس سے بحث نہیں کہ نولڈک کی بات درست ہے یادوسروں کی۔مَیں صر ف یہ بتاناچاہتاہوں کہ نئی تحقیق