تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 214
پس جس طرح درجہ میں نام کی شرکت سب کو برابر نہیں بنادیتی اسی طرح سب کی وحی وحی کہلا کر ایک سی نہیں ہوسکتی۔ہر ایک نبی کا کلام اس کی شان کے مطابق ہوتا ہے ہرایک نبی کاکلام اس کی شان کے مطابق ہوگا۔اس اصل کو مدّنظررکھیں تویہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ تورات ،انجیل، زبور وغیرہ کیوں قرآن کریم کی طرح بے نظیر نہیں۔جن انبیاء پر وہ کلام نازل ہوئے انہی کی شان کے مطابق ان میں خدا تعالیٰ نے برکت رکھی۔یہ کس طرح ہوسکتاتھاکہ اللہ تعالیٰ مختلف درجوں کے کام مختلف نبیوں کے سپرد کرتالیکن سامان سب کو ایک سادیتا بہرحال کام کے مطابق ہی اس نے سامان دینے تھے اورکام کے مطابق ہی اس نے کارکن مقررکرنے تھے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۰۰۱۰ اس ذکر کو ہم نے ہی اُتاراہے اورہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے حلّ لُغَات۔الذِّکْرَ کی تشریح کے لئے دیکھیں حل لغات سورۃ ہذاآیت نمبر ۷ و یوسف آیت نمبر ۱۰۵۔تفسیر۔ذکر کے معنے بتائے جاچکے ہیں کہ علاوہ اورمعنوں کے اس لفظ کے معنے شرف اورنصیحت کے بھی ہیں۔اس جگہ یہی معنے ہیں کفار نے طنزاً کہاتھا۔کہ اے وہ شخص! جس پر یہ عزت بخش کلام نازل ہواہے۔تویقیناً مجنون ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔یقیناً ہم نے ہاں! ہم نے اس عزت بخش کلام کو نازل کیاہے۔آیت کا پہلی آیت سے تعلق یہ ایک نہایت ہی زبردست آیت ہے۔اورایسی عجیب ہے کہ اکیلی ہی قرآن مجید کی صداقت کابیّن ثبوت ہے۔اس میں کتنی تاکیدیں کی گئی ہیں۔پہلے اِنَّ لایاگیاہے پھر نا کی تاکید نَحْن سے کی گئی ہے۔اورپھر آگے چل کر ایک اور اِنََّّ اورلام لایاگیاہے۔گویاتاکید پر تاکید کی گئی ہے۔کفّار نے اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ کے جملہ میں دوسری تاکید سے کام لے کر تمسخر کیاتھا۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ تاکید کے چار ذرائع استعمال کرتاہے۔اورفرماتا ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ سنو!ہم نے ہاں! یقیناً ہم نے ہی اس شرف و عزت والے کلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اُتاراہے اور ہم اپنی ذات کی قسم کھاکرکہتے ہیں کہ یقیناً ہم اس کی خود حفاظت کریں گے۔اللہ اللہ کتنا زور ہے کس قدر حتمی وعدہ ہے!! اس آیت کے متعلق یہ لطیفہ بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ کفا رکے طنز میںایک یہ معنے بھی پائے جاتے ہیں کہ ایسا بڑازبردست کلام جس نے دنیاکوشرف بخشناہے اس کے ساتھ توفرشتے بھی آنے چاہیے تھے۔اللہ تعالیٰ