تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 211
سکتاہے اورپھر مرگی کے دورے والے کی آنکھیں شکل اورعقل اور دوسرے حالات سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ مرگی کامریض ہے۔بلاوجہ معمولی سی تکالیف کو باربار دوہرانا۔خالی الذہن نظر آنا۔اورمعمولی معمولی باتوں پر غصہ کرنا ایسے شخص کی عادت میں داخل ہو جاتا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسی کوئی بات پائی نہ جاتی تھی۔یسوع کو لوگ آسیب زدہ کہتے تھے عیسائی پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی وجہ نہ تھی توساری قوم انہیں کیوں مجنون کہہ رہی تھی۔میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں یسوع نامی ایک اورآدمی بھی پیدا کیاہے۔جس کولوگ آسیب زدہ قراردیتے تھے اورمجنون کہتے تھے۔چنانچہ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۹،۲۰)میں لکھا ہے۔کہ ’’ان باتوں کے سبب یہودیوں میں پھر اختلاف ہوا۔ان میں بہتیرے توکہنے لگے کہ اس میں بدروح ہے۔اوروہ دیوانہ ہے۔تم اس کی کیوں سنتے ہو۔‘‘اس بزرگ کے ایک شاگرد پولوس نامی کی نسبت بھی لکھاہے۔’’جب وہ اس طرح جوابدہی کررہاتھا۔توفیتس نے بڑی آواز سے کہا۔اے پولوس توُدیوانہ ہے۔بہت علم نے تجھے دیوانہ کردیاہے۔‘‘(اعمال باب ۲۶ آیت ۲۴) اب عیسائیوں کوچاہیے کہ وہ پہلے مسیح ؑ اورپولوس کو دیوانہ کہنے کاسبب مرگی کادورہ ثابت کریں اس کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف توجہ کریں۔کیونکہ اپنے گھرکاکام مقدم ہوتاہے۔مسیحی معترضین کے اعتراض کا بطلان کاش یہ مسیحی معترضین انصاف سے کام لیتے۔اور غور کرتے۔تو اگر حضرت مسیح ؑکو بغیر مرگی کے دوروں کے صرف وعظ سن کر پاگل کہاجاسکتاہے توکیوں رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ کے عظیم الشان دعویٰ کرنے والے کو روحانی عالم سے ناواقف لوگ پاگل نہیں کہہ سکتے تھے۔مسیحیوں کایہ اعتراض اور بھی قابل تعجب ہو جاتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگلی آیات میں کفار کی پیش کردہ وجہ بھی بیان ہے جس کی بنا پر وہ آپؐ پر جنون کاالزام لگاتے تھے۔وہ اس الزام کی وجہ مرگی کو بیان نہیں کرتے۔بلکہ آپؐ کے دعاوی کے بعید ازعقل ہونے کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں اوریہ بات ہر نبی میں پائی جاتی ہے۔کوئی نبی نہیں جس نے وہ باتیں نہ کی ہوں جن کو اس زمانہ کے لوگ ماننے کو تیار نہ تھے۔