تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 202
ہمارے ہاں کوئی نہیں۔آیت میں بھی رُبَمَا کالفظ رکھا گیا ہے۔جوکئی دفعہ پردلالت کرتاہے۔یعنی ان لوگوں کو بحیثیت مجموعی اسلام لانے کاخیال پیدانہ ہوگا۔بلکہ الگ الگ مسائل پر ان کے دل میںیہ خواہش پیداہوگی کہ کاش یہ مسئلہ بھی ہمارے پاس ہوتا۔یہ بھی ہوتا۔مسلم کے معنے سپرد کردینے والےکے مُسْلم کے معنے سپرد کردینے والے کے بھی ہیں۔جیسے فرمایا اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (البقرة :۱۳۲) میں نے اپناسب کچھ اللہ کے سپردکردیا۔پس اس آیت کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں۔کہ جب کفار اپنی دنیوی تدابیرکو بیکار جاتے دیکھتے ہیں اورمحمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )کوجوصرف اللہ تعالیٰ پرتوکل کئے بیٹھے ہیں۔کامیاب ہوتے دیکھتے ہیں۔توان کاغرورایک وقت کے لئے کمزورپڑجاتاہے اوران کے دل میں خواہش پیداہوتی ہے کہ کاش ہم بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتے اوراپنے معاملات اس کے سپردکردیتے۔توان ذلّتوں اورشکستوںکامنہ نہ دیکھتے۔مسلم کے معنی امن دینے والے کے ہیں مسلم کے معنے امن دینے والے کے بھی ہوتے ہیں۔ان معنوں کو مدنظررکھتے ہوئے آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں۔کہ مسلمانوں کی ترقیات کو دیکھ کر کبھی کبھی کافروں کے دل میں یہ خیال آتاہے کہ کاش ہم اس قوم سے لڑائی نہ چھیڑتے اورصلح رکھتے اوریہ روزِ بدنہ دیکھتے۔جو اَب دیکھنانصیب ہوا۔ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَ يَتَمَتَّعُوْا وَ يُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ توان کو(اپنے حال پر)چھوڑدے کہ وہ (بیٹھے کھانے )کھاتے رہیں۔اوروقتی سامانوں سے نفع اٹھاتے رہیں يَعْلَمُوْنَ۰۰۴ اور(انکی جھوٹی) امیدیں انہیں غافل کرتی رہیں۔کیونکہ وہ جلد(ہی حقیقت )معلوم کرلیںگے۔حلّ لُغَات۔اَلْاَمَلُ وَالْاَمْلُ اس کی جمع آمَالٌ ہے۔اوراَلْاَمْلُ کے معنے ہیں۔الرَّجَاءُ۔امید۔تَاَمَّلْتُ الشَّیْئَ اَیْ نَظَرْتُ اِلَیْہِ مُسْتَثْبِتًالَہٗ۔تَاَمَّلْتُ الشَّیءَ کے معنے ہیں۔اسے غورسے دیکھا۔ٹکٹکی لگا کر دیکھا (اقرب)