تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 190

پر جو اتحاد ہو وہ کمزوری اور ذلت کا موجب ہوتا ہے لیکن نبیوں کے مخالف اسے نہیں سمجھ سکتے۔اور تقویٰ کے خلاف جتھا بندی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس جتھابندی کے ذریعہ سے ہم طاقت اور عزت حاصل کررہے ہیں۔حالانکہ بدی پر جتھابندی ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص قیدی کے ساتھ ہتھکڑی میں اپنے ہاتھ بھی بندھوا دے۔بے شک قیدی پہلے ایک تھا پھر دو ہو جائیں گے لیکن اس سے طاقت زیادہ نہ ہوگی بلکہ کمزوری پیدا ہوگی کیونکہ دو آدمیوں کا ایک ہتھکڑی میں بندھنا زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انبیاء کے دشمنوں کو زنجیروں میں اکٹھا باندھ کر آشکار کر ےگا اور انہیں بتائے گا کہ تمہارے جتھے ایسے ہی تھے جیسے قیدیوں کو اکٹھا ایک زنجیر میں باندھ دیا جائے۔سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ۰۰۵۱ ان کے کرتے (گویا ) تارکول کے ہوں گے اور (دوزخ کی ) آگ ان کے مونہوں کو ڈھانپ رہی ہو گی حلّ لُغَات۔سَرَابِیْلُہُمْ سَرَابِیْلُ سِرْبَالٌ کی جمع ہے۔اَلسِّرَبَالُ الْقَمِیْصُ سِرْبَالٌ کے معنی ہیں قمیص۔وَقِیْلَ اَلدِّرْعُ اور زرہ کو بھی سِرْبَال کہتے ہیں۔وَقِیْلَ کُلُّ مَالُبِسَ اور بعض نے اسے عام رکھا ہے کہ ہر وہ چیز جو پہنی جائے سِرْبَال ہے۔(اقرب) اَلْقَطِرَانُ: سَیَّالٌ دُھْنِیٌّ یُؤْخَذُ مِنْ شَجَرِ الْأَبْھَلِ وَالْاَرْزِ وَنَحْوَھُمَا (اقرب) قطران ایک قسم کا سیال تیل کی قسم کا مادہ ہوتا ہے جو سَرو یا دِیار وغیرہ درختوں سے نکالا جاتا ہے جس میں جل اٹھنے کا مادہ ہوتا ہے۔تفسیر۔اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ ان کا لباس سوا آگ کے اور کچھ نہ ہوگا۔یہ فقرہ ایسا ہی ہے جیسے کہہ دیں کہ مٹی کا تیل چھڑک کر انہیں جلا دیا جائے گا۔لباس چونکہ حفاظت کے لئے ہوتا ہے اس کا یہ مفہوم بھی ہے کہ ان کا کوئی محافظ نہ ہوگا۔بلکہ جن کو وہ محافظ سمجھتے تھے وہ پھر ان کے دشمن اور مخالف ثابت ہوں گے۔جیسا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہوں میں لکھا ہے کہ مشرک جن کو خدا بناتے ہیں قیامت کے دن وہ ان سے بیزاری ظاہر کریں گے۔