تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 189
يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا (اور وہ دن ضرور آنے والا ہے) جس دن اس زمین کو زمین کے سوا (کچھ اور) بنا دیا جائے گا۔اور آسمانوں کو بھی لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۰۰۴۹ (کسی اورصورت میں بدل دیا جائے گا) اور یہ (لوگ) اللہ (تعالیٰ) کے جو واحد (اور ہر ایک چیز پر )کامل غلبہ رکھنے والا ہے سامنے ہوں گے۔بَرَزَ یَبْرُزُ بُرُوْزًا خَرَجَ نکل کر سامنے آیا۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلے جہان کے نعماء اس دنیا کی نعمتوں سے بالکل الگ ہیں کیونکہ یہاں فرمایا ہے کہ زمین و آسمان بدل کر دوسرے زمین و آسمان قائم کئے جائیں گے۔اگر اگلے جہان بھی اسی قسم کے میوے وغیرہ ہونے تھے تو زمین و آسمان کو بدلنے کی کیا ضرورت ہے؟ پس اس دنیا کی نعمتوں کو اس دنیا کی نعمتوں پر قیاس کرنا بالکل خلاف عقل ہے۔وَ تَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِۚ۰۰۵۰ اور اس دن تو ان مجرموں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھے گا۔حلّ لُغَات۔مُقَرَّنِیْنَ- قُرِّنَتِ الْاَسَارٰی فِی الْجِبَالِ اَیْ جُمِعَتْ۔قیدیوں کو رسیوں میں ملا کر اکٹھا باندھا گیا۔وَشُدِّدَ لِکَثْرَۃٍ وَمِنْہُ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ۔اور تشدید تکثیر اور مبالغہ کے لئے لائی جاتی ہے۔جیسے قرآن مجید میں مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ میں مُقَرَّنِیْنَ تشدید کے ساتھ آیا ہے۔(اقرب) اَلْاَصْفَادُ کا مفرد اَلصَّفَدُ ہے اور اَلصَّفَدُ کے معنے ہیں اَلْعَطَاءُ بخشش۔اَلْوَثَاقُ۔باندھنے کی چیز۔زنجیر رسہ وغیرہ۔تفسیر۔رسوں میں باندھنے کا مطلب اس جگہ سوال ہوسکتا ہے کہ قیامت کے دن رسوں میں باندھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگلے جہان کی زندگی اس جہان کی ظل ہوگی۔چونکہ ان لوگوں نے یہاں پر بداعمال ایک دوسرے کی شہ اور مدد پر کئے تھے اس لئے اس کا نظارہ اس رنگ میں دکھایا جائے گا کہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ رسوں میں باندھا جائے گا۔مطلب یہ کہ برا اتحاد طاقت اور عزت کا موجب نہیں ہوتا۔بدی