تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 183

َحْتَ ذَقَنِہٖ وَاَمَالَہٗ اِلَیْہِ فَقَبَّلَہٗ۔بچے کے سر کے پچھلی طرف ہاتھ رکھ کر اور دوسرا ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اسے اپنی طرف پھیرا اور اسے بوسہ دیا۔اَقْنَعَ حَلْقَہٗ وَفَمَہٗ۔رَفَعَہُ لِاسْتِیْفَاءِ مَا یَشْرَبُہٗ مِنْ مَّاءٍ اَوْلَبَنٍ اَوْغَیْرِھِمَا۔اس نے اپنے منہ کو اونچا کیا تاکہ پانی وغیرہ پوری طرح پی سکے۔بِیَدَیْہِ فِی الصَّلَوۃِ رَفَعَھُمَا فِی الْقُنُوْتِ۔اپنے ہاتھوں کو نماز میں قنوت کے لئے اٹھایا۔رَأْسَہٗ وَعُنُقَہٗ رَفَعَہٗ وَشَخَصَ بِبَصَرِہٖ نَحْوَالشَّیْءِ لَایَصْرِفُہٗ عَنْہُ۔اپنے سر کو اٹھایاا ور نظر ایسے طور پر کسی چیز پر جمائی کہ اس سے ہٹ نہ سکے۔(اقرب) مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ میں ان کی حیرانگی اور خوف زدہ ہونے کو ظاہر کیا گیا ہے۔کہ ان کی حالت ایسی ہوگی کہ وہ اپنے سر بلند کرکے آنحضرتؐ کے لشکر کو دیکھ رہے ہوں گے۔ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔اور وہ سخت خوفزدہ ہو کر بھاگیں گے۔اَلْھَوَآءُ۔اَلشَّیءُ الْخَالِیُ۔خالی چیز۔اَلْـجَبَانُ لخِلُوِّ قَلْبِہٖ عَنِ الْجُرْأَۃِ۔بزدل پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔کیونکہ اس کا دل جرأت سے خالی ہوتا ہے۔(اقرب) وَاَفْئِدَتُـھُمْ ھَوَاءٌ۔ان کے دل امیدوں سے خالی ہوں گے۔ان کے دل بیٹھے جارہے ہوں گے۔بزدلی ان پر چھائی ہوگی اور مقابلہ نہ کرسکیں گے۔تفسیر۔کفار کو ڈھیل حضرت ابراہیم ؑ کی دعا سے مل رہی تھی یہ بتا کر کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسے نبی کے لئے دعا کی تھی جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو قائم کرے۔مکہ اس کا مرکز ہو اور شرک سے اس کی تعلیم پاک ہو اب اللہ تعالیٰ کفار مکہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے کہ بے شک ان کو ڈھیل ملی ہے لیکن اس کی یہ وجہ نہیں کہ ہم ان کے اعمال سے ناواقف ہیں بلکہ اس کی وجہ اور ہے۔اس وجہ کو لفظاً اس جگہ نہیں بتایا کیونکہ اوپر کے رکوع سے وہ وجہ ظاہر ہو چکی ہے اور وہ بھی ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے کہ اے میرے رب !اگر میری اولاد مشرک ہو تو میرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ہاں! آپ بڑے بخشنے والے مہربان وجود ہیں۔اگر ان سے ترقی کا برتاؤ کریں تو آپ کی شان کے مطابق ہے۔یہ دعا علاوہ ان کی ہدایت کی خواہش کے اس ڈھیل کا موجب ہورہی تھی مگر جو لوگ ازلی شقی تھے وہ اس سے الٹے مغرور ہورہے تھے۔لیکن کب تک انہیں ڈھیل دی جاسکتی تھی۔ایک دن اصل دعا اپنا رنگ لائے گی اور مہلت سزا میں بدل جائے گی۔اس جملہ کو عَمَّا يَفْعَلُ الظّٰلِمُوْنَ سے ختم کیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ جو تیرے مخالف کرتے ہیں یا مکہ والے کرتے ہیں اس سے اول یہ بتانا مطلوب ہے کہ خواہ کتنی ہی ڈھیل ملے ظالم آخر اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر ہی رہے گا۔دوم محمد رسول اللہ صلعم اور صحابہؓ کے دل کو تسلی دینا مقصود ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ ظالم ہیں اور مسلمانوں پر ظلم کررہے ہیں۔ہم عدم توجہ کی وجہ سے ان کی طرف سے غافل نہیں ہیں۔مسلمانوں کے مظلوم ہونے کا خیال ہے لیکن ابراہیمؑ