تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 182
نہیں دیتا تو ان کی طرف توجہ ہی نہیں ہے۔غافل دو طرح ہوسکتا ہے۔(۱) بے خبری سے (۲) توجہ نہ کرنے سے۔تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ صرف ان کو ڈھیل دے رہا ہے اس دن کے لئے کہ جس دن لوگوں کی نظریں چڑھ جائیں گی۔یا پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ آنکھ نہیں جھپک سکیں گے۔جب انسان پر حیرت کا وقت آتا ہے تو وہ آنکھ جھپک نہیں سکتا۔مطلب یہ کہ خدا تعالیٰ ان کو درمیانی ڈھیل دے رہا ہے۔اس دن تک جس دن ان پر آخری عذاب آئے گا۔اس وقت تک ان کو ڈھیل دے گا۔(اس آیت کی تفسیر اگلی آیت کے ساتھ دیکھیں۔) مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ (وہ) اپنے سروں کو اوپر اٹھائے ہوئے خوف زدہ ہو کر دوڑتے آرہے ہوں گے(اور ) ان کی نظریں (لوٹ کر) طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْـِٕدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ۰۰۴۴ واپس نہیں آئیں گی اور ان کے دل (امیدوں سے )خالی ہوں گے۔حل لغات۔مُھْطِعِیْنَ- اَھْطَعَ سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے۔جس کا مجرد ھَطَعَ ہے۔کہتے ہیں ھَطَعَ الرَّجُلُ اَسْرَعَ مُقْبِلًا خَائِفًا۔خوف زدہ ہو کر تیزی سے دوڑتا ہوا آیا۔اَقْبَلَ بِبَصَرِہٖ عَلَی الشَّیْءِ فَلَمْ یَرْفَعْہُ عَنْہُ۔کسی چیز پر ٹکٹکی لگا کر دیکھتا رہا۔اور وہاں سے نظر کو نہ ہٹایا۔اور اَھْطَعَ البَعِیْرُ کے معنی ہیں مَدَّ عُنُقَہٗ وَصَوَّبَ رَاْسَہٗ۔اونٹ نے گردن کو لمبا کیا۔ا ور سر کو اٹھایا۔اَسْرَعَ وَاَقْبَلَ مُسْرِعًا خَائِفًا لَایَکُونُ اِلَّا مَعَ خَوْفٍ۔اور اَھْطَعَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں خوف زدہ ہوکر جلدی سے آیا۔(خوف کا ہونا ضروری ہے) وَقِیْلَ نَظَر بِخُضُوْعٍ۔اور بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنے عاجزی کی نظر سے دیکھنے کے ہیں۔(اقرب) پس مُھْطِعٌ کے معنے ہوں گے (۱) خوف زدہ ہوکر دوڑنے والا۔(۲) عاجزی سے دیکھنے والا۔(۳) سر اوپر اٹھانے والا۔مُھْطِعِیْنَ اس کی جمع ہے۔مُقْنِعٌ مُقْنِعِیْ رُؤُوْسِھِمْ: اَقْنَعَ رَأْسَہٗ نَصَبَہٗ سر کو سیدھا اٹھایا۔وَقِیْلَ لَا یَلْتَفِتُ یَمِیْنًا وَشِمَالًا وَ جَعَلَ طَرَفَہٗ مُوَازِیًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ اور بعض نے اَقْنَعَ کے یہ معنے کئے ہیں کہ اپنے سر کو اٹھا کر بالکل سیدھا رکھے اور دائیں بائیں نہ موڑے۔اَقْنَعَ الصَّبِیَّ کے معنے ہیں وَضَعَ اِحْدَی یَدَیْہِ عَلٰی فَأْسِ قَفَاہُ وَجَعَلَ الْاُخْرٰی