تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 171

رکھی جاتی ہے۔خواہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہی کیوں نہ ہو کہ وہ اس انعام سے اسے متمتع رکھے گا۔کیونکہ اس دعا میں درحقیقت اس امر کا اقرار ہوتا ہے کہ یہ نعمت میری ذاتی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے بطور انعام حاصل ہوئی ہے۔اسی اصل کے ماتحت انبیاء نبوت کے انعامات کے متعلق بھی دعا میں لگے رہتے ہیں۔جیسے حضرت ابراہیم کی یہ دعا ہے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا یا استغفار اور توبہ کا انبیاء سے صدور ہے۔انبیاء کا استغفار ان نکتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے انبیاء کے استغفار اور توبہ سے دھوکا کھایا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ گویا وہ گنہگار تھے۔حالانکہ ان کے استغفار اور توبہ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جس مقام طہارت پر وہ ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک موہبت ہے اور اس کے جاری رکھنے کے لئے وہ دعا کرتے ہیں کیونکہ اس کا تسلسل اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے۔باوجود کمال کے انسان کو اللہ تعالیٰ پر سہارا رکھنا چاہیے اسی بناء پر قرآن کریم میں بار بار وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکَّلُوْنَ آتا ہے۔یعنی باوجود کمال کے انسان کو اللہ تعالیٰ پر سہارا رکھنا چاہیے۔کیونکہ وہ کمال خدا تعالیٰ پر سہارے سے ہی حاصل ہوا ہے۔اور اس سہارے کا اقرار کرتے رہنا اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ہدایت کا موجب ہوتا ہے۔رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ اے میرے رب انہوںنے یقیناً بہت سے لوگوں کو گمراہ کر رکھا ہے پس جس نے میری پیروی (اختیار ) کی وہ (تو) فَاِنَّهٗ مِنِّيْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۳۷ مجھ سے (تعلق رکھتا ہے) اور جس نے میری نافرمانی کی تو (اس کے متعلق بھی میری یہی عرض ہے کہ ) تویقیناً بڑا ہی بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے تفسیر۔حضرت ابراہیم ؑ کی محبت الٰہی کا مظاہرہ محبت الٰہی کا کیسا پاک مظاہرہ ہے۔حضرت ابراہیمؑ فرماتے ہیں میری اولاد اگر شرک نہ کرے گی تب تو وہ میری اولاد ہے ورنہ نہیں۔اس آیت سے یہ بھی مستنبط ہے کہ بہت سے گناہوں کا باعث اولاد کی محبت بھی ہوتی ہے۔اولاد کی محبت اس حد تک ہونی چاہیے جس سے وہ بگڑ نہ جائے حضرت ابراہیمؑ نے ہمیں سبق دیا ہے کہ