تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 170

گیا ہے کہ اس رسول کی کامیابی کی بنیاد تو ہزاروں سال پہلے سے رکھی گئی ہے۔خصوصاً ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ مکہ والوں کو الہامی کتاب کی نعمت سے متمتع کرنا ضروری تھا اور انہیں شرک کی ظلمت میں پڑا رہنے نہیں دیا جاسکتا تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بارہ میں حضرت ابراہیمؑ کے زمانہ سے وعدہ کر چکا ہے اور وہ وعدہ خلاف نہیں ہے۔حضرت ابراہیم کو دعا کرتے وقت علم تھا کہ مکہ میں شرک پھیلے گا اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اس امر کا علم رکھتے تھے کہ مکہ کے علاقہ میں شرک پھیلنے والا ہے۔تبھی تو انہوں نے دعا کی کہ خدایا مجھے اور میری اولاد کو شرک سے ایک طرف رکھیو۔ورنہ جس وقت دعا کی گئی تھی مکہ میں شرک کا نام و نشان نہ تھا۔صرف حضرت اسمٰعیلؑ کا گھر آباد تھا یا وہ لوگ بستے تھے جو ان کے تابع تھے۔موازنہ مذاہب والوں کے خیال کا رد اس دعا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توحید اور شرک کے دور دنیا پر آتے رہتے ہیں اور موحد قومیں مشرک ہو جاتی ہیں اور مشرک موحد ہوجاتی ہیں اور توحید کے اعلیٰ مقام پر پہنچی ہوئی قوم کی نسبت بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اب وہ شرک کے اثر سے محفوظ ہو گئی ہے۔اس تعلیم سے اس خیال کا رد ہوتا ہے جو موازنہ مذاہب والے لوگ پیش کرتے ہیں۔یعنی توحید شرک سے ترقی کرتے کرتے پیدا ہوتی ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کے بعد شرک اور شرک کے بعد توحید کے دور آتے رہتے ہیں اور ہمیشہ توحید کا دور شرک کے دور سے پہلے ہوتا ہے۔اس اصل کے ماتحت توحید کو الہامی اور شرک کو تنزل کا ایک مقام تسلیم کرنا پڑتا ہے۔برخلاف موزانہ مذاہب والوں کے اصول کے کہ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا خیال خوف اور حیرت سے پیدا ہوا اور شرک سے ترقی کرتے ہوئے توحید کے نقطہ تک پہنچا۔بظاہر یہ اختلاف معمولی معلوم ہوتا ہے مگر اسی اختلاف کے نتیجہ میں مذہب نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور موازنہ مذاہب والوں نے کہا کہ انسان نے خدا کو پیدا کیا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کا خیال انسانی دماغ کی ایجاد ہے اور اس کی تکمیل انسانی فلسفہ کی تکمیل سے ہوئی ہے۔اس آیت پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ابراہیم شرک کرسکتے تھے؟ اگر نہیں تو انہوں نے یہ دعا کیوں کی کہ خدایا مجھے شرک سے بچا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی طاقتیں دو قسم کی ہیں۔ایک وہ جو خِلْقَۃً اسے اللہ تعالیٰ نے دی ہیں۔ان کے متعلق وہ دعا نہیں کرتا۔مثلاً یہ نہیں کہتا کہ خدایا میرا ایک ہی سر رہے دو نہ ہو جائیں۔دوسری وہ طاقتیں ہیں جو انسان کو کَسْبًا یا وَہْبًا ملتی ہیں۔یعنی وہ انہیں آپ ترقی کر کے حاصل کرتا ہے۔یا خدا تعالیٰ کا خاص فضل دوسرے انسانوں سے ممتاز کرکے اسے عطا کرتا ہے۔ایسی طاقتوں میں چونکہ تنزل کا امکان ہوتا ہے ان کے لئے دعا جاری