تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 168

دعائیں کرتے تھے کہ کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں ہم آزادی سے اسلام کی تعلیم کو رائج کر سکیں۔تو ان کے جواب میں فرمایا کہ بے شک ایسے علاقے مسخر کر دئیے جائیں گے۔جن میں تم آسانی کے ساتھ اسلامی تعلیم کو قائم کرسکو گے۔اب پھر اسلام پر ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ اس کی تعلیم پر کلی طور پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔اور بعض علاقوں میں تو اس کے لئے سب راہیں مسدود ہیں۔جیسے روس کا علاقہ ہے۔تبلیغی لحاظ سے بھی میں سمجھتا ہوں سچائی کی تبلیغ اس وقت کہیں بھی نہیں ہو سکتی۔علماء امراء، آقاؤں، بادشاہوں اور غلاموں وغیرہ نے اپنی ضرورتوں کے مطابق دین کو بدل دیا ہے۔ان حواشی کو علیحدہ کرکے سچے اسلام کی تبلیغ کسی ملک میں بھی نہیں ہوسکتی۔پس ہر مخلص مومن کو چاہیے کہ يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ پر عمل کرے اور خدا سے دعا کرے تا وہ تبلیغ اسلام کے لئے آسانیاں میسر فرمائے اور اسلام کے قیام کے سامان پیدا کرے۔اور یہ دعائیں انہی لوگوں کی قبول ہوں گی جو اقامۃ صلوٰۃ کرنے والے ہوں گے۔جو لوگ نمازیں باقاعدہ اور بلا سخت معذوری کے باجماعت ادا نہیں کرتے ان کی دعا کم سنی جاتی ہے۔اسی طرح یہ دعا انہی کی سنی جائے گی جو اخلاص سے اسلام کے لئے مالی قربانیاں کرنے والے ہوں گے۔جماعت احمدیہ کو ایک نصیحت جماعت احمدیہ بے شک چندے دیتی ہے لیکن صحابہ والا انفاق اور تھا۔وہ تو کوشش کرکے اپنے اوپر غربت لاتے تھے۔جب تک اسی طرح انفاق نہ ہو ترقی ممکن نہیں ہوا کرتی۔اسی وجہ سے پہلی آیت میں جہاں خرچ کا حکم دیا ہے وہاں سرًّا کو پہلے رکھا ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ اصل انفاق وہ ہے جو طبعی ہو اور اس میں کسی شہرت وغیرہ کا خیال نہ ہو۔جو انفاق طبعی ہو گا ظاہر ہے کہ اس کے لئے طبیعت کو ابھارنا نہیںپڑے گا۔بلکہ اسکے ظہور کو بعض دفعہ روکنے کی ضرورت محسوس ہوگی۔پس وہی انفاق اس آیت کے ماتحت ہے جو طبعی ہو نہ یہ کہ نفس پر خرچ کرنا تو طبعی ہو اور خدا کے راستہ میں خرچ کرنے کے لئے دوسرے کے کہنے کی ضرورت ہو۔جب احمدیہ جماعت میں یہ مادہ پیدا ہو جائے گا اور انہیں اپنے آپ پر خرچ کرنے کے لئے تو نفس پر بوجھ ڈالنا پڑے گا اور دین کی راہ میں خرچ کرنا طبعی تقاضا مدنظر آئے گا تب ان کے لئے ترقیات کے راستے کھلیں گے۔اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِسے مراد آئندہ کے افضال ہیں اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَاتُحْصُوْھَا۔یہ مراد نہیں کہ ان احسانات کی ظاہری گنتی نہیں کرسکتے۔یہ تو ایک موٹی بات ہے۔انسان اگر اپنے جسم کی نعمتوں کو ہی شمار کرنا چاہے تو وہ بھی بے حد وبے قیاس ہیں۔پس اس سے مراد آئندہ کے افضال ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں تم پر ہوں گی۔مختلف قسم کے احسان تم سے وہ کرے گا اور اتنے فضل تم پر نازل ہوں گے کہ تم احاطہ بھی نہ کرسکو گے۔لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌسے مراد لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ کہہ کر یہ اشارہ کیا ہے کہ اگر ان نعمتوں کے باوجود لوگ اسلام سے