تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 167
دوسروں میں بانٹتے رہنا۔وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اور جو کچھ( بھی) تم نے اس نے مانگا اس نے تمہیں دیا ہے اور اگر تم اللہ( تعالیٰ) کے احسان گننے لگو تو ا ن کا شمار نہیں لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌؒ۰۰۳۵ کر سکو گے۔انسان یقیناً بڑا ظالم (اور) بڑا شکر ناگذار ہے۔تفسیر۔مِنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ کا مطلب۔جس بات کا انسانی فطرت تقاضا کرتی تھی وہ سب خدا تعالیٰ نے مہیا کر دیا مِنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ اگر اس کو ماضی کے معنوں میں مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس بات کا انسانی فطرت تقاضا کرتی تھی وہ سب کا سب خدا تعالیٰ نے مہیا کر دیا۔زبانی سوال مراد نہیں۔کیونکہ زبانی سوال تو کئی رد بھی کر دیئے جاتے ہیں مگر تقاضائے فطرت کبھی رد نہیں کیا جاتا۔انسان میں اگر تاثر کی طاقت رکھی ہے تو ساتھ ہی تاثیر کرنے والی چیزیں بھی پیدا کر دیں اور اگر اس میں تاثیر کا مادہ رکھا ہے تو اس کے اثر کو قبول کرنے والی چیزیں بھی بنا دی ہیں۔آنکھ دیکھنے کے لئے بنائی ہے تو اس کے لئے روشنی کے سامان اور خوبصورت نظارے بھی پیدا کئے۔کان سننے کے لئے بنائے تو اس کے لئے ہوا اور خوش الحان اور سریلی آوازیں بھی پیدا کیں۔مرد میں تولید کا مادہ پیدا کیا تو اس کے قبول کرنے کے لئے عورت بھی پیدا کر دی۔غرض ہر تقاضائے فطرت کا جواب پیدا کیا ہے اور یہی اس آیت کے معنے ہیں۔مِنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ میں ماضی بمعنی مضارع (۲) ماضی بمعنی مضارع بھی ہوسکتی ہے۔جب یہ یقین دلانا ہو کہ جس امر کا وعدہ ہے اسے تم پورا ہوا ہی سمجھو تو مضارع کی جگہ ماضی کا صیغہ بھی لے آتے ہیں۔اس صورت میں آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ اے مومنو! تم نے جو خدا سے خواہش کی ہے کہ وہ ایسے علاقے تم کو دے جن میں قرآن کریم کی تعلیم استوار ہو اور جڑھ پکڑے وہ قبول ہو گئی اور سن لو کہ آسمان و زمین کی کل چیزیں تمہارے سپرد کی جائیں گی اور دنیا میں تمہارے لئے سہولتیں اور آسائشیں بہم پہنچائی جائیں گی۔مومن بحیثیت جماعت خدا تعالیٰ سے یہی مانگا کرتا ہے کہ دین کی اشاعت ہو اور دین کی ترقی کے راستے میں کوئی روک نہ رہے اور یہ سورۃ بھی مکی ہے۔اس زمانہ میں مسلمانوں کے راستہ میں سخت مشکلات تھیں۔مومن