تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 157
آسمان میں پھیل جانے کی طاقت بھی۔یہ خاصیت بھی قرآن کریم میں پائی جاتی ہے بلکہ اس وقت صرف اس میں پائی جاتی ہے۔یعنی اس پر عمل کرنے والے لوگ اس کے ذریعہ سے ایسے اعلیٰ مقامات تک پہنچتے ہیں کہ گویا وہ مجسم قرآن ہو جاتے ہیں۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ میں (مجمع البحار) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اگر دیکھنا چاہو تو قرآن کریم دیکھ لو۔جو تعلیمات قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور جو اعلیٰ صفات اس میں بیان کی گئی ہیں وہ سب کی سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں اور اسی کی طرف اشارہ ہے۔مَا اَنَا اِلَّا کَالْقُرْاٰنِ سَیَظْھَرُ عَلٰی یَدِیْ مَاظَھَرَ مِنَ الْفُرْقَانِ کے الہام میں جو اس زمانہ کے قرآنی پھل حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام پر ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ میں قرآن کی طرح ہوں اور جو کچھ اس سے ظاہر ہوا مجھ سے بھی ظاہر ہوگا(الحکم ۲۴ ؍ستمبر ۱۹۰۶ءصفحہ ۱)۔یعنی تعلیم قرآنی میرے وجود میں دنیا کو نظر آئے گی۔اس الہام میں گویا تُؤْتِيْاُكُلَهَاکا مصداق ہونے کی طرف اشارہ ہے۔قرآن کریم دائمی نجات دیتا ہے دوسری خصوصیت تُؤْتِيْاُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍ کے ماتحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ دائمی نجات دے اور یہ مفہوم اس سے پیدا ہوتا ہے کہ جس کے دل میں کلام الٰہی داخل ہو کر ایک درخت بنے گا اگر وہ شخص دائمی زندگی نہ پائے گا تو درخت ہمیشہ پھل کس طرح دے گا۔گو یہ مفہوم آئندہ کے متعلق ہے اور اس کا اس دنیا میں ثبوت دینا ناممکن ہے۔لیکن کم سے کم یہ بات تو ظاہر ہے کہ صرف الہامی کتب ہی دائمی نجات کا وعدہ دیتی ہیں۔انسانی کتب دائمی نجات کا وعدہ نہیں دیتیں۔اور نہیں دے سکتیں کیونکہ دائمی زندگی ابدی زندگی والی ہستی ہی دے سکتی ہے اور وہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔پس وہی کلام دائمی زندگی کا دعویٰ پیش کرسکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے کا مدعی ہو۔اور اس دعویٰ میں بھی قرآن کریم سب دوسری کتب سے بڑھا ہوا ہے۔ہمیشہ کی زندگی کا مضمون جس وضاحت سے اور جس طرح با دلائل قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اس سے دسواں حصہ بھی دوسری کتب میں نہیں۔اگر ہے تو کوئی شخص پیش کرکے دیکھ لے۔بِاِذْنِ رَبِّهَاکے الفاظ سے قرآن کریم کےفوق الطبیعی نتائج کی طرف اشارہ پانچویں خصوصیت اس آیت میں کلمہ طیبہ کی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ بِاِذْنِ رَبِّھَا پھل دے۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کے نتائج طبیعی نہ ہوں بلکہ طبیعی نتائج سے بالا ہوں۔طبیعی نتائج صرف اس قدر ثابت کرسکتے ہیں کہ اس کتاب نے قوانین قدرت کا اچھا نقشہ پیش کیا ہے۔لیکن یہ ثابت نہیں کرتے کہ وہ کتاب کسی ایسی ہستی کی طرف سے ہے جو طبعیات پر حاکم ہے۔یہ امر اس کتاب سے ثابت ہو سکتا ہے جو علاوہ طبیعی نتائج کے فوق الطبیعی نتائج بھی پیدا کرے۔مثلاً ایک