تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 144
طرح معلوم کرے کہ فلاں تعلیم تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور دوسری نہیں۔کوئی ایسا معیار چاہیے جس سے تازہ اور قابل عمل کلام دوسرے منسوخ شدہ کلام سے اور انسانوں کے بنائے ہوئے اصولوں سے ممتاز ثابت ہو۔سو وہ معیار اس آیت میں بیان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ سے انسان بہ سہولت اس کلام الٰہی کی صداقت کو معلوم کر لیتا ہے۔جو تازہ بتازہ اور اپنے زمانہ کے لئے قابل عمل ہوتا ہے۔شجرۃ طیبہ اور کلمہ طیبہ کی پانچ علامات میں مشابہت فرماتا ہے کلمۃ طیّبۃ یعنی تازہ محفوظ اور نہ بگڑے ہوئے کلام الٰہی کی مثال شجرہ طیبہ کو سمجھ لو کہ (۱) وہ طیب ہو۔یعنی ظاہری صورت اچھی ہو۔(۲) اس کی جڑھ مضبوط گڑی ہوئی ہو۔(۳) اس کی شاخیں آسمان میں پھیل رہی ہوں۔(۴) اور وہ اپنا پھل ہر وقت دے رہا ہو۔(۵) اور یہ پھل دینا اللہ تعالیٰ کے اذن کے ماتحت ہو۔یہ پانچ علامات ہیں جو ایک تازہ اور ملاوٹ سے پاک کلام میں ہونی چاہئیں۔اگر یہ علامات کسی کلام میں پائی جائیں تو وہ اس زمانہ کے لئے قابل عمل ہے اور اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ہدایت نامہ ہے۔لیکن اگر یہ اور کسی کتاب یا کلام الٰہی کہلانے والے صحیفہ میں نہ پائے جائیں تو وہ یا تو منسوخ شدہ کلام الٰہی ہے یا انسانی بناوٹ ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے منزل نہیں ہے۔اب میں الگ الگ سب علامتوں کو لیتا ہوں۔کلام کے طیب ہونے کا مطلب پہلی علامت یہ بتائی ہے کہ وہ طیب ہو۔طیب کے معنے ہیں (ا) برائی عیب اور نقصان سے محفوظ شے۔(ب) خوبصورت (ج) جو طیب والا ہو۔اور طیب کے معنے ہیں (ا) لذیذ (۲) پاکیزہ (۳) خوبصورت (۴) شیریں (۵) شاندار (۶) خوبیوں میں بڑھا ہوا۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے قابل عمل کلام وہ ہے جو اچھے درخت کی طرح ضرر اور نقصان سے محفوظ ہو۔یعنی اس میں ایسی باتیں نہ ہوں جو انسانی روح یا انسانی شرافت یا انسانی احساسات و جذبات کے خلاف ہوں۔دوسرے یہ کہ وہ خوبصورت ہو اور اس میں دلکشی اور جذب کے سامان ہوں۔تیسرے اس پر عمل کرنے والا لذت اور سرور حاصل کرے۔چوتھے اس میں حلاوت ہو۔پانچویں وہ شاندار ہو۔چھٹے وہ دوسروں سے خوبیوں میں بڑھا ہوا ہو۔سچے کلام میں مضامین کی وسعت ہوتی ہے اور انسانی فطرت کی سب ضرورتوں کو پورا کرتا ہے دوسری علامت یہ بتائی ہے کہ اس کی جڑھ مضبوط ہو۔درخت کی جڑھ کے مضبوط ہونے سے ایک تو یہ مراد ہوتی ہے کہ درخت زندہ ہے اور زمین سے غذا لے رہا ہے۔اسی طرح تازہ کلام الٰہی ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اپنی غذا لے رہا