تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 143
لِفُلَانٍ کے معنے ہیں فَارَقَتْہُ الْمَکَارِہُ۔تکالیف دور ہو گئیں۔طَابَتْ نَفْسِیْ عَلَیْہِ کے معنے ہیں وَافَقَھَا کہ میرے دل نے اس سے موافقت کی اور طَیّبٌ کے معنے ہیں ذُوالطّیْبَۃِ پاکیزگی والا۔(اقرب) پس کَلِمَۃٌ طَیِّبَۃٌ کے معنے ہوں گے ایسا کلام جو اعلیٰ ہو۔بڑھنے والا ہو۔عمدہ ہو۔خوشی پیدا کرنے والا ہو۔فطرت انسانی کے موافق ہو۔تفسیر۔یہ آیت ان آیات میں سے ہے جن کی تفسیر کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف ان آیات کو حل کر دیا ہے بلکہ دوسری آیات کے لئے حل کرنے کا گر بھی ہمارے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔مگر پیشتر اس کے کہ میں اس کی تفسیر کروں کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کا اعراب بتا دینا چاہتا ہوں۔کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کی ترکیب کے متعلق نحویوں کااختلاف نحویوں نے کلمۃ کا اعراب دو طرح بیان کیا ہے۔بعضوں نے کَلِمَۃً کو مَثَلًا کا بدل قرار دیا ہے۔اس لحاظ سے ترجمہ یوں ہوگا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہے ایک مثال یعنی کلمہ طیبہ کی۔یہ معنے ابوالبقا نے کئے ہیں۔ضَرَبَ مَثَلًا کے ساتھ استعمال ہو کر دومفعول چاہتا ہے ابن عطیّہ اور زمخشری کہتے ہیں کہ ضَرَبَ جب مَثَلًا کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو یہ بھی جَعَلَ کی طرح دو مفعول چاہتا ہے۔اس بناء پر انہوں نے کَلَمِۃً کو مفعول اوّل قرار دیا ہے اور مَثَلًا کو مفعول ثانی اور کَشَجَرَۃٍ کو مبتدا محذوف کی خبر بنایا ہے۔یعنی ھی کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ تو ان کے نزدیک ترجمہ یہ ہوا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح کلمہ طیبہ کو مثالی طور پر واضح کرکے بیان کیا ہے کہ وہ ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑھ قائم ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں یا بلندی میں پھیلی ہوئی ہیں۔کلمہ طیبہ سے مراد تازہ اور انسانی دستبرد سے پاک کلام ہے اب میں اس آیت کی تفسیر بیان کرتا ہوں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی حقیقت بیان کی ہے۔یعنی اس کلام الٰہی کی جو تازہ اور پاکیزہ ہو اور انسانی دست برد سے پاک ہو اور اس کا موقع یہ تھا کہ پہلی آیات میں شیطانی راہوں پر چلنے والوں کے لئے تباہی کا ذکر فرمایا تھا اور ایمان لانے والوں کے لئے جنات اور انعامات کا۔اس ذکر سے قدرتی طور پر انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ میں وہ راہ اختیار کروں جو عذاب سے بچانے والی اور نعمتوں کا وارث بنانے والی ہو۔لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ اس سورۃ میں یہ ذکر موجود ہے کہ مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی آئے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض نبی بعض کے کلام کو منسوخ کرنے والے تھے۔تازہ اور مصفّٰی کلام الٰہی کے امتیاز کا معیار پس جب خدا تعالیٰ کا بعض کلام بعض دوسرے کلام کو منسوخ کر دیتا ہے تو انسان کس طرح معلوم کرے کہ فلاں خدائی کلام تو تازہ اور مصفیٰ ہے اور فلاں تازہ اور مصفیٰ نہیں؟ یا کس