تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 129
وعدہ کے بعد دعا کی ضرورت اگر کوئی یہ کہے کہ خدا تو پہلے وعدہ کر چکا ہے کہ وَ لَنُسْكِنَنَّكُمْ کہ ہم مومنوں کو ہی جگہ دیں گے تو پھر دعا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن باتوں کا خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے ان کے لئے زیادہ دعا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ اگر وعدہ کے بعد انسان محروم رہ جائے تو یہ امر اس کی سخت بدقسمتی پر دلالت کرے گا۔وعدہ کے بعد دعا کی ضرورت قرآن کریم کی ایک اور آیت سے ثابت ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ (اٰل عمران :۱۹۵) پس مومن کو اس پر اتکال نہیں کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔بلکہ اگر وعدہ ہو تو تدبیر اور دعا سے اور بھی زیادہ کوشش کرنی چاہیے تا اس کی غلطی سے خدا تعالیٰ کے کلام پر کوئی حرف نہ آئے۔انبیاء ہمیشہ موعود امور کے لئے دعا اور تدبیر سے کام لیتے چلے آئے ہیں اور یہ ان کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی دلیل ہے۔فتح مکہ کے وعدہ کے باوجود آنحضرت ؐ کا دعا اور تدبیر سے کام لینا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ میں ہی فتح مکہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔جیسا کہ فرمایا لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ (القصص :۸۶) لیکن باوجود اس کے آپ اس کے لئے دعا بھی کرتے رہے اور تدابیر کرتے رہے۔بیس کے قریب جنگیں آپ نے اس مقصد کے لئے کیں اگر وعدہ کے بعد تدبیر ناجائز ہے تو پھر چاہیے تھا کہ آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔پس یہ اصل کہ وعدہ کے بعد تدبیر یا دعا ناجائز ہے جاہلوں کا بنایا ہوا ہے اور دین سے جہالت کے سبب سے گھڑا گیا ہے۔جیسا کہ بتایا گیا ہے وَ اسْتَفْتَحُوْا کی ضمیر کفار کی طرف بھی پھر سکتی ہے۔اس صورت میں آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ کفار فتح کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور فتح کی خواہش کرتے ہیں مگر اگلے جملہ میں فرمایا کہ یہ عجب بے وقوف ہیں ان کے سامنے پہلے مثالیں موجود ہیں کہ نبیوں کے مخالف ہمیشہ ناکام اور نامراد ہوتے رہے ہیں مگر باوجود اس کے پھر یہ امید رکھتے ہیں کہ ہم نبی کے مقابل کامیاب ہو جائیں گے۔مِّنْ وَّرَآىِٕهٖ جَهَنَّمُ وَ يُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍۙ۰۰۱۷ اس (دنیوی عذاب) کے بعد (اس کے لئے) جہنم (کا عذاب مقدر) ہے اور( وہاں) اسے تیز گرم پانی پلایا جائے گا حلّ لُغَات۔وَرَآئِہٖ۔وراء کے لفظ کے معنے آگے اور پیچھے دونوں کے ہیں۔اور اکثر زمانہ کے متعلق استعال ہوتا ہے۔اور آگے اور پیچھے دونوں معنوں میں اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ کبھی فرض کر لیا جاتا ہے کہ گویا