تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 106

منزل کسی غیرجگہ ہی جاکر ختم ہوگی۔سبیل اللہ سے مراد اسلام بھی ہو سکتا ہے اس آیت کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ بظاہر کفار اسلام کے بارہ میں بحث مباحثہ میں لگے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اسلام کا نقطۂ نگاہ سمجھنے کی خواہش ہے لیکن درحقیقت وہ ضد اور تعصب سے کام لے کر اسلام کے بارہ میں گفتگو کررہے ہوتے ہیں۔اور چونکہ اللہ کے راستہ کو صداقت کی راہوں سے ہی پایا جاسکتا ہے اس لئے وہ ہدایت پانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ان معنوں کے رو سے سبیل اللہ کے معنے مخصوص طور پر اسلام کے ہوں گے۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ١ؕ اور ہر ایک رسول کو ہم نے اس کی قوم کی زبان میں ہی( وحی دے کر) بھیجا ہے۔تاکہ وہ انہیں (ہماری باتیں) کھول فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ کربتائے پھر( اس کے بعد) اللہ (تعالیٰ) جسے (ہلاک کرنا) چاہتا ہے ہلاک کرتا ہے اور جسے (کامیاب کرنا)چاہتا الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۰۰۵ ہے(اسے) منزل مقصود پر پہنچا دیتا ہے اور وہ کامل (طور پر) غالب( اور) صاحب حکمت ہے۔حلّ لُغَات۔یُضِلُّ۔اَضَلَّ سے مضارع ہے اور اَضَلَّہٗ کے معنے ہیں اَھْلَکَہٗ اس کو ہلاک کر دیا۔(اقرب) فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَآءُ کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ جسے ہلاک کرنا چاہتا ہے ہلاک کرتا ہے۔بَیَّنَہٗ۔اَوْضَحَہٗ کھول کر بیان کیا۔(اقرب) اور لِیُبَیِّنَ کے معنے ہوں گے کہ وہ کھول کر بیان کرے۔تفسیر۔اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ کے معنے اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ کے معنے بعضوں نے تو یہ کئے ہیں کہ رسول کی وحی صرف اس کی قوم کی زبان میں ہونی چاہیے۔لیکن یہ صحیح نہیں۔ہاں !یہ صحیح ہے کہ اس کی قوم کی زبان میں ضرور وحی ہونی چاہیے کیونکہ وہ پیغام جو اس نے اپنی قوم کو پہنچانا ہے اگر دوسری زبان میں ہوا تو اس کی تبلیغ اس کے لئے مشکل ہو جائے گی۔لیکن بطور نشان اور معجزات کسی اور زبان میں الہام ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے الہاموں پر اعتراض اور اس کا جواب بعض لوگ حضرت مسیح موعود