تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 89
ہے وَقِیْلَ یُطْلَقُ الْاَنْعَامُ عَلٰی ھٰذِہٖ الثَّلَاثَۃِ الْاِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ۔وَ إِنْ ا نْفَرَدَتِ الْغَنَمُ وَالْبَقَرُ لَمْ تُسَمَّی نَعَمًا اور بعض کے نزدیک اونٹ گائے بکری ان تینوں کے متعلق جب اکٹھا ذکر ہو تو نعم بول سکتے ہیں۔اور اگر اکیلی بکریاں ہوں یا گائے اور بکریاں ہوں یا اکیلی گائے ہوں تو ان کے لئے نعم کا لفظ نہیں بول سکتے۔(اقرب) زُخْرُفٌ اَلزُّخْرُفُ الذَّھَبُ سونا کَمَالُ حُسْنِ الشَّیْءِ کسی چیز کی خوبصورتی کا کمال۔اَلزُّخْرُفُ مِنَ الْاَرْضِ اَلْوَانُ نَبَاتِھَا۔جب زمین کے متعلق یہ لفظ بولیں تو اس کی سبزیوں کے اقسام اور رنگ مراد ہوتے ہیں (اقرب) حَصِیْدٌ اَلْحَصِیْدُ مَقْطُوْعٌ بِالْمَنَاجِلِ۔جسے درانتیوں سے کاٹا جائے اَلْمُسْتَأْصِلُ جڑ سے اکھاڑی ہوئی چیز (اقرب) غَنِیَ بِالْمَکَانِ اَقَامَ بِہٖ مکان میں ٹھہرا۔لَمْ تَغْنَ نہ ٹھہرا۔گویا اس کا وجود ہی نہ تھا۔تفسیر۔حیات دنیا کی ایک تمثیل یہ ایک تمثیل ہے فرمایا کہ ورلی زندگی کی حالت بالکل پانی کی سی ہے۔جیسے پانی آسمان سے اترتا ہے اور اس سے زمین میں رنگارنگ کی سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔کوئی تو انسانوں کے کھانے کے کام آتی ہے اور کوئی حیوانوں کے۔اس شادابی کو دیکھ کر انسان بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھے کہ یہ سب کچھ خدا کے فضل سے ہوا ہے یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ یہ ہماری ہی طاقت اور ہنر سے پیدا ہوا ہے جس وقت اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ میں ان کے اگانے پر قادر ہوں تو اَتَاھَا اَمْرُنَا۔اچانک ہمارا عذاب آجاتا ہے جو اس کو تباہ کر دیتا ہے۔وہ تو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ میں خود اگاتا تھا۔لیکن عذاب آنے کے وقت اس کو محفوظ بھی نہیں رکھ سکتا۔یعنی جب اقوام میں کبر اور خودپسندی پیدا ہوتی ہے تو ان کی تباہی کا وقت آجاتا ہے۔روحانی کلام کی پانی سے تشبیہ اس آیت میں روحانی کلام کو پانی سے مشابہت دی ہے کلام الٰہی جب نازل ہوتا ہے تو دنیا میں تغیرات پیدا ہونے لگ جاتے ہیں۔اور قسم قسم کے علوم نکلنے لگتے ہیں۔جیسے قرآن کریم کے نزول کے بعد، اولیاء، محدث، فلسفی وغیرہ ہر قسم کے اہل علم انسان پیدا ہو گئے۔یہاں تک کہ جب وہ زمانہ آیا کہ مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ اِنَّہُمْ قَادِرُوْنَ عَلَیْہَا کہ یہ علوم انہوں نے خود ہی ایجا دکئے ہیں تو وہی مسلمان جو بڑے بڑے ماہر علوم سمجھے جاتے تھے ذلیل ہو گئے۔حق تو یہ ہے کہ جو موجب بھی خدا کی طرف سے آتا ہے وہی تغیر پیدا کرتا ہے اور جب وہ موجب نظروں سے دور ہو جاتا ہے تو لوگ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہماری طرف سے ہو رہا ہے۔فائدہ اٹھانا فکر پر موقوف ہے فکر کے معنی ہیں ماضی کے حالات کے تسلسل کو ذہن میں قائم رکھنا۔پس فرمایا کہ جو لوگ گذشتہ حالات کو ذہن میں رکھتے ہیں وہی فائدہ اٹھاتے ہیں اور جو اس تسلسل کو قائم نہیں رکھتے وہ فائدہ