تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 88
اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ اس ورلی زندگی کی حالت (تو )اس پانی کی طرح ہے جسے ہم نے بادل سے برسایا پھر اس کے ساتھ زمین کی فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَ روئیدگی جسے آدمی اور (نیز) چارپائے کھاتے ہیں مل(کر یکجان ہو) گئی یہاں تک کہ جب زمین نے (اس کے الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّيَّنَتْ وَ ذریعہ سے )اپنی کمال درجہ کی زینت کو پا لیا۔اور خوبصورت ہو گئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ (اب )وہ اس پر ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَيْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَيْلًا قابو یافتہ ہیں۔تو اس پر دن کو یا رات کو( عذاب کے متعلق) ہمارا حکم آگیا اور ہم نے اسے ایسا کر دیا۔کہ گویا وہ ایک اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِيْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ کٹاہوا کھیت ہے گویا (یہاں )کل (کچھ )تھا (ہی )نہیں (غرض) جو لوگ سوچ سے کام لیتے ہیں۔ان کے كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠۰۰۲۵ لئےہم اسی طرح پر (اپنی ) آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔حلّ لُغات۔الْمَثَلُ الْمَثَلُ الشِّبْہُ وَالنَّظِیْرُ۔مشابہ اور نظیر۔اَلصِّفَۃُ حالت بیان۔اَلْحُجَّۃُ دلیل ثبوت۔اَلْحَدِیْثُ بات۔اَلْقَوْلُ السَّائِرُ ضرب المثل۔(اقرب) اِخْتَلَطَ اِخْتَلَطَ خَلَطَ میں سے باب افتعال کی ماضی ہے۔اس کے معنی ہیں اِمْتَزَجَ مل جل گیا۔الْجَمَلُ سَمُنَ موٹا ہو گیا۔الظِّلَامُ اِعْتَکَرَ سخت تاریک ہو گیا۔(اقرب) اَنْعَامُ اَنْعَامُ نَعَمٌکی جمع ہے۔اس کے معنی ہیں اَلْاِبَلُ اونٹ۔اَلشَّاۃُ بکری وَ قِیْلَ خَاصٌّ بِالْاِبِلِ یعنی بعض کے نزدیک نعم صرف اونٹ کے لئے خاص ہے۔قَالَ اَبُوعُبَیْدَۃُ النَّعَمُ اَلْجِمَالُ فَقَط۔یُؤْنَّثُ وَ یُذَکَّرُ۔ابوعبیدہ کا قول ہے کہ نعم صرف اونٹوں کو کہتے ہیں اور یہ لفظ مذکر و مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا