تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 72
بھی کمزور ہو جاتی ہے۔حضرت معاویہ کو درست لکھنے کی ہدایت کرنے کی روایت معتبر نہیں حضرت معاویہؓ کے متعلق جو کہا گیا ہے کہ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سؔ اور بؔ ٹھیک لکھنے کے لئے کہا۔اول تو یہ حدیث ایسی معتبر نہیں۔بنوامیہ اور بنوعباس میں اس قدر دشمنی تھی کہ بنوعباس کے زمانہ میں بہت سی ایسی روایات گھڑی گئی ہیں جن میں یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ لوگ علم کی طرف راغب نہ تھے اور کچھ لیاقت و قابلیت نہ رکھتے تھے۔لکھنا پڑھنا نہ جاننے کے باوجود بھی ہدایت دی جا سکتی ہے لیکن اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو ایک شخص جو ہدایات دینے اور قرآن لکھوانے کا دیر سے عادی ہو چکا ہو اس کے لئے س اور ب کے لئے ہدایات دینا کچھ مشکل نہیں۔اور نہ اس کے لئے پڑھنے کی شرط ہے۔بالکل ممکن ہے کسی شخص نے کسی وقت کسی تحریر کے پڑھنے میں دیر کی ہو اور آپ نے پوچھا ہو کہ دیر کی کیا وجہ ہے تو اس نے عرض کیا ہو کہ س کے دندانے ملے ہوئے تھے یا ب لمبی نہ تھی اس لئے جلدی پڑھا نہ گیا۔تو آپ نے سمجھ لیا کہ س کے دندانے کھلے ہونے چاہئیں۔اور ب لمبی ہونی چاہیے۔اور اس وجہ سے معاویہ کو آپ نے ہدایت دی ہو تا کہ تحریر مشتبہ نہ ہوجائے۔ہمارے ملک میں عورتیں روٹی پکاتی ہیں۔مرد بعض دفعہ انہیں کہہ دیتے ہیں کہ گول دائرہ بناؤ۔اب کوئی اس سے یہ سمجھ لے کہ شاید ہم بڑے اچھے روٹی پکانے والے ہیں کیونکہ ہم ہدایت دے رہے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔پس س کے دندانوں کو کھلا کرنے اور ب کو لمبا کرنے کا حکم دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور لکھنا جانتے تھے۔قلم دوات کے منگانے سے لکھنا پڑھنا جاننا ثابت نہیں ہوتا آپ کے قلم دوات منگانے سے استدلال کرنا بھی غلط ہے۔کیونکہ قلم دوات حضور ساری عمر منگاتے رہے۔جب قرآن مجید لکھواتے تھے تو قلم دوات منگواتے تھے۔اس سے یہ کیونکر ثابت ہو گیا کہ آپ لکھنا بھی جانتے تھے۔حکم اِقْرَأْ سے بھی یہ مدعا ثابت نہیں ہوتا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ کی آیت بھی کوئی دلیل نہیں کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔کیونکہ قرأت کے معنی صرف لکھا ہوا پڑھنے ہی کے نہیں ہیں۔بلکہ دوسرے کی بات کو دوہرانے کے لئے بھی یہ لفظ آتا ہے۔جو شخص قرآن مجید کو زبانی اچھی طرح پڑھتا ہو اس کی نسبت خواہ وہ اندھا ہو عربی زبان میں کہیں گے ھُوَ یُحْسِنُ قِرَأَۃَ الْقُرْاٰنِ۔پس اِقْرَأْ سے لکھا ہوا پڑھنے کا استدلال کرنا کسی صورت میں درست نہیں۔صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی قرآنی وحی ہوئی اور حضرت جبریل نے آپ سے اِقْرَأْ کہا تو اس وقت اس نے کوئی تحریر آپ کے سامنے نہیں رکھی تھی پس اِقْرَأْ کے یہ معنی نہیں کہ دیکھ کر پڑھ۔بلکہ یہ