تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 71

تربیت پارہے تھے ایک ایسی بعیدازعقل بات ہے کہ جسے غالباً پادری ویری اور ان کی طرح کے چند لوگ ہی جو تاریخ اسلامی سے ناواقف ہیں صحیح سمجھ سکتے ہوں گے۔جس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہو چکی تھی اور آپ ان کے گھر میں آ چکے تھے۔اور خدیجہؓ نے اپنا سب مال آپ کے سپرد کر دیا تھا۔اور آپ ایک مالدار رئیس کی حیثیت پاچکے تھے۔پس ایک جگہ دونوں کا تربیت پانا ایک بے دلیل اور خلاف عقل دعویٰ ہے۔لطف یہ ہے کہ تاریخ ہمیں پادری صاحب کے اس دعویٰ کے بالکل خلاف بتاتی ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک گھر میں پرورش نہیں پائی۔بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش پائی تھی۔کیونکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوطالب کی حالت غربت کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کو بچپن میں ہی اپنے گھر میں لے آئے تھے۔اور حضرت علیؓ نے آپ ہی کے گھر پرورش پائی تھی۔(حلی ا لایام فی خلفاء الاسلام صفحہ ۱۹۶) پس اگر حضرت علیؓ نے اوائل عمر میں ہی لکھنا پڑھنا سیکھا تھا تو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ تھا۔اور کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ کس طرح ممکن ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو تعلیم دلائی تھی تو آپ کے چچا نے آپ کو تعلیم نہ دلائی ہو۔تعلیم دلانا تو زمانہ کے حالات اور مربی کے اپنے خیالات پر منحصر ہوتا ہے اور یہاں زمانہ بھی مختلف ہے اور مربی بھی الگ الگ ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم کے رائج کرنے کا شوق تھا۔آپ نے تعلیم دلائی۔آپ کے دادا اور چچا کو اپنے زمانہ کے دستور کے مطابق شوق نہ تھا انہوں نے کوشش نہ کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شوق تعلیم کا یہ حال تھا کہ بڑی عمر میں کئی صحابہ نے تعلیم حاصل کی۔حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑی عمر میں مدینہ جاکر عبرانی سیکھی۔تجارت کرنا تعلیم پر موقوف نہیں دوسری دلیل اگر آپ لکھنا نہ جانتے تو اتنے بڑے اہم تجارتی کام کو کس طرح کرسکتے؟ یہ اعتراض بھی یورپ کی موجودہ حالت پر قیاس کرکے کیا گیا ہے۔ایشیا میں اب بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بغیر تعلیم کے لوگ بڑے بڑے تجارتی کام کرتے ہیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ مکہ کے لوگ لکھنے کو زیادہ اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اور صرف چند لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔لیکن تاجر سینکڑوں تھے۔تجارت کے لئے قافلے کے قافلے جایا کرتے تھے۔پس یہ کہنا کہ جو تاجر جاتے تھے پڑھے ہوئے ہوتے تھے غلط اور قیاس مع الفارق ہے۔تجارت کے سفر میں ایک خواندہ غلام آپ کے ہمراہ تھا دوسرا جواب یہ ہے کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ نے ایک غلام میسرہ نامی جو پڑھا لکھا تھا آپ کے ساتھ کر دیا تھا۔پس اس سے یہ دلیل اور