تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 61

چاہیے۔وہ لوگ بھی یہی چال چلتے ہیں۔اور درمیانی راہ پر آجانے کی دعوت دیتے ہیں۔اور اول تو مطالبہ یہ پیش کرتے ہیں کہ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن لے آؤ یعنی تم بڑے کام کرنے والے ہو اپنی نئی تعلیم پیش نہ کرو۔قوم کے لیڈر بن کر اسی کے خیالات کے مطابق کام کرو۔تو ہم سب لوگ تمہارے پیچھے چلنے کو تیار ہیں۔اس طرح ملک کا فساد دور ہو جائے گا۔اور بھائی سے بھائی جدا نہ ہوگا۔اور اگر تم ایسا پسند نہیں کرتے تو دوسری تجویز ہم یہ پیش کرتے ہیں کہ کم سے کم ایسے مضامین کو بیچ میں سے اڑا دو جن سے تمہاری قوم کو رنج ہوتا ہے۔مثلاً شرک کے خلاف تعلیم یا قومی رسوم کے خلاف تعلیم۔اس تجویز کے پیش کرتے وقت آئمۃ الکفر خوب جانتے ہیں کہ آپ ان امور کو تو مان نہیں سکتے پس لوگوں کے جذبات پھر بھڑک اٹھیں گے کہ یہ کس قدر تنگ خیال آدمی ہے۔کہ قوم اور ملک میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے اپنے بعض خیالات چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔اور یہ بھول جائیں گے کہ بے شک قوم اور ملک ایک اہم چیز ہیں لیکن سچائی ان سے بھی اہم ہے۔اور یہ بھی خیال نہ کریں گے کہ قوم کا تنزل تو ان سچائیوں کے انکار کی وجہ سے ہے پس وہ صلح کس فائدہ کی۔جس میں ان سچائیوں کو چھپایا جائے جن پر قومی ترقی کا انحصار ہے۔اور اس طرح قوم کو ہمیشہ کے لئے کامیابی کے راستہ سے پھرا دیا جائے۔آہ یہ خیال ہمیشہ تنزل کی طرف جانے والی اقوام میں راسخ ہوتا ہے کہ انہیں ان کے موجودہ نظام کو بدلے بغیر ترقی نصیب ہو جائے۔اور وہ ہمیشہ مصلحین کے خلاف یہی رویہ اختیار کرتی ہیں کہ قومی صلح کو باقی سب امور پر ترجیح دیتی ہیں۔حالانکہ اس سے زیادہ جھوٹ اور کوئی نہیں ہوتا کہ ایک گری ہوئی قوم میں حقیقی صلح ہو۔قرآن کریم فرماتا ہے قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى۔ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں اس کے باوجود وہ سب فساد کا الزام اپنے وقت کے مصلحوں پر لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے فساد ڈال دیا۔اور قومی صلح کے نام سے صداقتوں کی قربانی میں اخفاء کا مطالبہ کرتے ہیں۔جسے کوئی راست باز انسان قبول نہیں کرسکتا۔اور اس سے دشمنانِ حق کو اس کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کا موقع مل جاتا ہے۔بالکل اسی طرح آج کل مسلمانوں میں ہو رہا ہے۔مگر افسوس کہ باوجود قرآن کریم میں اس حقیقت کے واضح کر دینے کے وہ اپنی حالت کو سمجھتے نہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔اس مطالبہ کا جواب اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ا ئمۃ الکفر کی اس تدبیر کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے کہ تو ان سے کہہ دے کہ میں اپنی طرف سے اس تعلیم کو کیسے بدل سکتا ہوں۔تم جانتے ہو کہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں اپنی عقل سے اس تعلیم کو پیش کرتا ہوں۔اگر میری عقل کا سوال ہوتا تو بے شک کہا جاسکتا کہ ایک فرد کی عقل کو قوم کی عقل کے تابع کر دیا جائے مگر یہ تو اللہ تعالیٰ کا تجویز کردہ نسخہ ہے۔اس میں تبدیلی نسخہ کی غلطی کی وجہ سے تو ہو نہیں سکتی