تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 60

تفسیر۔اس آیت میں بینات کا لفظ آیات کا حال مؤکد ہے۔جس کا ترجمہ نعت کی طرح کیا جاتا ہے اور اکثر مقامات پر انبیاء کے ذریعہ سے جو نشانات یا کلام دنیا کو سنایا جاتا ہے اس کے لئے بینات کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ آیات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک محض آیات۔دوسری آیات بینات۔بعض آیات غیر بین بھی ہوتی ہیں دنیا کا ہر ذرہ ایک آیت ہے۔کیونکہ عقلاً وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ میرا پیدا کرنے والا موجود ہے۔لیکن ہم یہ امر اپنے قیاس سے معلوم کرتے ہیں۔وہ دلیل خود اس امر کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔کہ میں اس غرض سے پیدا کی گئی ہوں۔مگر وہ آیات جو انبیاء کی معرفت آتی ہیں ان کے ساتھ یہ امر بھی واضح کر دیا جاتا ہے کہ وہ امور غیبیہ پر بطور دلالت کے نازل کی گئی ہیں۔اور اصل مقصود ان سے ہستی باری کا ثبوت ، نبیوں کی شہادت، صفات الٰہیہ کے ظہور کی حقیقت ،بعث مابعد الموت کا انکشاف ہے۔پس چونکہ ان آیات کے متعلق صاف کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایمانی امور کے لئے بطور گواہ کے ہیں۔ان کا نام برخلاف قانون قدرت کی آیات کے آیات بینات رکھا جاتا ہے۔مثلاً وبائیں ایک آیت ہیں۔لیکن وہ وباء جس کی نبی پہلے سے خبر دیتا ہے اور لوگوں کو ہوشیار کر دیتا ہے کہ وہ میری صداقت کے ثبوت کے طور پر ظاہر ہو گی۔آیت ہی نہیں بلکہ آیۂ بینہ ہے۔کہ عام وباء کی نسبت زیادہ وضاحت سے اپنے مقصد کو ظاہر کررہی ہے۔قرآن کریم کے بدلنے کا مطالبہ منکر لوگ ان آیات بینات کو سن کر بجائے فائدہ اٹھانے کے دو مطالبے کرتے ہیں۔ایک یہ کہ اس قرآن کی بجائے اور قرآن لے آؤ۔دوسرا یہ کہ اگر یہ نہ کر سکو تو کم سے کم اس میں تبدیلی کر دو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مطالبات ان کے دل کی سختی اور زنگ آلودگی کے سبب سے ہیں۔کیونکہ ان کے پاس نشانات تو آ چکے ہیں مگر باوجود ان نشانات کے انہوں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔پس معلوم ہوا کہ ان کا مقصد فائدہ اٹھانا نہیں ہے بلکہ بوجہ اس کے کہ دل ایمان سے خالی ہیں ہنسی اور شرارت مقصود ہے اور چاہتے ہیں کہ نشانات کا جو اثر پبلک پر پڑا ہے اس کو دور کر دیں۔اس مطالبہ کی غرض لوگوں کو نبی کے خلاف بھڑکانا ہے اَلَّذِیْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا کے جملہ سے صاف ثابت ہے کہ نشانات کو دیکھ کر عوام میں سے بعض کے دل نرم ہو گئے ہیں۔ان کی اس حالت کو دیکھ کر ائمۃ الکفر کو فکر پڑتی ہے اور وہ ایسی چال چلنا چاہتے ہیں جس سے لوگوں کے جذبات پھر مخالفت میں ابھر پڑیں۔اور آخر مصلح کی شکل اختیار کرتے ہیں۔انسانی فطرت صلح کے طریق کو پسند کرتی ہے۔اور صلح کے مطالبہ پر امور متنازعہ فیہا کی اہمیت کو بسا اوقات نظرانداز کر کے صرف اس امر کو اپنے ذہن میں جما لیتی ہے کہ خواہ کچھ قربانی کرنی پڑے صلح کرلینی