تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 519
الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ۰۰۱۰۲ (جب بھی میری موت کا وقت آئے) مجھے اپنی کامل فرمانبرداری کی حالت میں وفات دے اور صالحین (کی جماعت) کےساتھ ملا دے۔حلّ لُغَات۔فَاطِرٌ۔فَاطِرٌ: فَطَرَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنے ہیں پیدا کرنے والا۔مزید تشریح کے لئے دیکھو ہودآیت۵۱۔تَوَفَّنِیْ مجھ کو وفات دے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت۱۰۱۔تَأْوِیْلٌ تاویل حقیقت۔مزید تشریح کے لئے دیکھو یوسف آیت۲۲۔تفسیر۔برگزیدہ لوگوں کا خدا تعالیٰ سے عشق یہ آیت اس عشق پر دلالت کرتی ہے جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ لوگوں کے دلوں میں موجزن ہوتا ہے۔ان کے رشتہ داروں کی ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے کرتے یکدم اللہ تعالیٰ کی محبت کا شعلہ اٹھتا ہے اور وہ سب کچھ بھول بھال کر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔دنیاومافیہا ان کی نظر سے غائب ہو جاتے ہیں اور وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ اے خدا! یہ سب کچھ تیرا ہی دیا ہوا ہے۔یہی وہ حقیقی سجدہ ہے جو انسان کو روحانی میدان میں ترقی بخشتا ہے۔ظاہری سجدہ تو ایک وقتی سجدہ ہے۔اصل سجدہ یہی ہے کہ خوشی اور غم کے موقعہ پر انسان کی نگاہ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھ جائے اور اس کا دل بے تاب ہوکر اس کی طرف جھک جائے۔اس مقام کے حصول کے بغیر کوئی روحانی ترقی حاصل نہیں ہوسکتی اور اس جنت میں انسان داخل نہیں ہوسکتا جس کے بغیر اگلے جہان کی جنت کا ملنا ناممکن ہے۔ویری کا اعتراض اور اس کا جواب ویری نے اس جگہ اعتراض کیا ہے کہ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ میں وہی قرآن والا کبر ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ یہ قرآن والا کبر نہیں بلکہ قرآن والی محبت ہے کہ ہر بات میں خدا کا ذکر کردیتے ہیں۔بائبل والی خودغرضی نہیں کہ کام ہو گیا تو نام لینا ہی چھوڑ دیا۔مُلک سے مراد تصرف ہے نہ کہ بادشاہت رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہت مل گئی تھی۔مگر اس سے یہ مراد نہیں۔ملک سے مراد تصرف اور قبضہ ہے اور وہ ان کو بادشاہِ وقت کے حکم سے حاصل تھا۔وَ عَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ تو نے مجھے خوابوں کی حقیقت سکھا دی یعنی انہیں پورا کرکے دکھا دیا۔یا یہ کہ تو نے مجھے تعبیر الرؤیا کا علم سکھا دیا۔انبیاء کا وجود صفاتِ الٰہیہ کا ثبوت ہوتا ہے فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ۔انبیاء کا وجود صفات الٰہیہ کا ثبوت ہوتا