تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 486
تفسیر۔برادران یوسف کی سنگدلی سنگدلی کی حد ہو گئی۔اول تو جھوٹا الزام بھائی پر چوری کا لگایا۔پھر اس پر اس قدر غیرت جتاتے ہیں اور ایسی بے تعلقی کا اظہار کرتے ہیں کہ گویا وہ ان کا بھائی ہی نہیں۔یہ نہیں کہتے کہ آپ اسے معاف فرمائیں کہ ہمارا باپ بڈھا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا باپ بڈھا ہے۔گویا اس غیرت کی حالت میں اپنے آپ کو اس باپ کی اولاد ظاہر کرنے سے بھی شرماتے ہیں جس نے بن یامین اور یوسف جیسے بچے جنے تھے۔قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا اس نے کہا(کہ ہم) اس بات سے اللہ (تعالیٰ) کی پناہ (چاہتے ہیں) کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَؒ۰۰۸۰ ہم اس کے سوا کسی (اور) کو پکڑیں۔اس صورت میں ہم یقیناً ظالموں میں سے ہوں گے( نہ کہ محسنوں میں سے)۔حلّ لُغَات۔مَعَاذَاللہِ مَعَاذَاللہِ اَیْ اَعُوْذُبِاللہِ اَوْبِوَجْہِ اللہِ مَعَاذًا۔مَعَاذَاللہِ کے معنے ہیں کہ (میں) اللہ کی پناہ (چاہتا ہوں)۔(اقرب) اَلْمَتَاعُ: سامان۔مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت۲۴ و ہودآیت ۴۔تفسیر۔کفارہ کا ردّ اس آیت سے کفارہ کا بھی رد نکلتا ہے۔یوسف علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ ایک کے بدلہ میں دوسرے کو رکھنا ظلم ہے حالانکہ وہ اپنی مرضی سے اپنے آپ کو پیش کررہے تھے۔عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح نے ہمارے لئے اپنی مرضی سے صلیب کو قبول کیا۔اس لئے وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوئے(The Jerom Biblica Commentary edited by Ramond E Brown ss vol 2 p۔167)۔لیکن بائبل بھی اس قسم کے کفارہ کو ظلم قرار دیتی ہے۔حضرت یوسف کا بن یامین کی جگہ کسی اور کو لینے سے انکار حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں ہی لکھا ہے کہ جب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے آپ کو پیش کیا کہ بن یامین کی جگہ ہم میں سے کسی کو قید کرلو تو یوسف علیہ السلام نے کہا ’’خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں۔یہ شخص جس کے پاس سے میرا پیالہ نکلا وہی میرا غلام ہوگا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۷/۴۴) معلوم ہوا کہ بے گناہ کو گنہ گار کی جگہ پکڑ کر سزا دینا خواہ وہ بے گناہ راضی ہی کیوں نہ ہو